International

ٹرمپ کی جانب سے پوتین کو غزہ کی امن کونسل میں شمولیت کی دعوت

ٹرمپ کی جانب سے پوتین کو غزہ کی امن کونسل میں شمولیت کی دعوت

کریملن نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین کو امن کونسل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پٹی کی جنگ کے بعد نگرانی اور تعمیر نو کے لیے تجویز کیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ حقیقت میں صدر پوتین کو سفارتی ذرائع کے ذریعے امن کونسل میں شمولیت کی پیشکش موصول ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس تجویز کی تمام تفصیلات کا اس وقت جائزہ لے رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ باریک نکات کی وضاحت کے لیے امریکی فریق سے رابطہ ہو سکے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قازقستان کے صدر کے ترجمان نے آج کہا کہ صدر قاسم جومارت توکایوف بھی امن کونسل میں شامل ہوں گے اور انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام میں کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق دعوتی خط کی ایک نقل اور مجوزہ منشور کے مسودے سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ تاحیات امن کونسل کی سربراہی کریں گے اور ابتدا میں غزہ کے معاملے پر توجہ دی جائے گی جس کے بعد دیگر تنازعات کو بھی دائرہ کار میں شامل کیا جائے گا۔ امریکی صدر نے ساٹھ ممالک کو مجلسِ امن میں شمولیت کی دعوت دی ہے تاہم مستقل رکنیت صرف ان ممالک یا شخصیات کو دی جائے گی جو ایک ارب ڈالر ادا کریں گے۔ امریکی صدارت نے ان سیاست دانوں اور سفارت کاروں کے نام بھی جاری کیے ہیں جو امن کونسل میں شامل ہوں گے جبکہ دیگر حکام نے بھی دعوت نامے موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ کونسل میں شامل ہونے والی نمایاں شخصیات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد اور بین الاقوامی ثالث جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، امریکی ارب پتی مارک روان، عالمی بینک کے صدر اجے بنگا اور ٹرمپ کے مشیر رابرٹ گیبریل کو بھی مجلسِ امن میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔

Source: Social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments