ایران کے سرکاری پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ ان کی مداخلت کے باعث تہران نے احتجاجی قیدیوں میں سے 800 افراد کو دی جانے والی سزائے موت روک دی تھیں، بالکل غلط ہے۔ ایرانی عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ایجنسی میزان کے مطابق محمد موحدی نے آج جمعے کے روز کہا "یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے، اس نوعیت کی کوئی تعداد موجود ہی نہیں اور عدالتی نظام نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا"۔ اس بیان کے بعد ایک بار پھر یہ سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آیا ملک گیر احتجاجات کے تناظر میں اجتماعی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جائے گا یا نہیں۔ دوسری جانب حکام پہلے ہی یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ بعض زیر حراست افراد کو ایسے الزامات کا سامنا ہے جن کی سزا سزائے موت ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران میں قتل اور سزائے موت کے اقدامات رک گئے ہیں اور یہ کہ 800 افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد کا منصوبہ بنایا گیا تھا مگر وہ نافذ نہیں ہو سکا۔ گذشتہ ماہ28 دسمبر کو ایران میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد ٹرمپ متعدد مرتبہ مظاہرین کی مدد کے لیے مداخلت کی دھمکی دیتے رہے، تاہم بعد ازاں انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ "احتجاج کرنے والوں کو دی جانے والی سزائے موت روک دی گئی ہیں"۔ یاد رہے کہ ایران میں یہ احتجاجات ملک میں جاری معاشی بحران، بلند افراطِ زر اور سیاسی قیادت کے خلاف بعض ایرانی شہریوں میں پائی جانے والی بے چینی کے باعث شروع ہوئے تھے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ