امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن کسی سفارتی حل کی کوئی علامت نظر نہیں آتی۔ سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سٹیو وٹکوف نے کہا کہ ’ایران کی خطے کو دہشت زدہ کرنے کی کوشش الٹا اثر ڈال رہی ہے‘ اور اس کے بجائے ’لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لا رہی ہے‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک نے امریکہ سے رابطہ کیا ہے ’جو ابراہام پیس اکارڈ کا حصہ بننا چاہتے ہیں‘۔ سٹیو وٹکوف نے پیر کو ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی ٹیلی فونک گفتگو کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پوتن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس ایران کے ساتھ امریکی اثاثوں کے بارے میں کوئی انٹیلیجنس شیئر نہیں کر رہا۔ واضح رہے کہ سٹیو وٹکوف ٹرمپ کی طرف سے ایران سے مذاکرات بھی کر رہے تھے۔ یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں ہو رہے تھے۔ ان مذاکرات کے دوران ہی امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔ ایران کا الزام ہے کہ یہ دوسری بار امریکہ اور اسرائیل نے ایسا کیا کہ جب سفارتی عمل شروع ہوا تو جنگ چھیڑ دی گئی۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ