International

ٹرمپ ایران پر حملے پر بضد، وائٹ ہاؤس کے اندر نیا محاذ کھل گیا

ٹرمپ ایران پر حملے پر بضد، وائٹ ہاؤس کے اندر نیا محاذ کھل گیا

واشنگٹن (21 فروری ): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے کے معاملے پر وائٹ ہاؤس کے اندر نیاز محاذ کھل گیا۔ خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر بضد ہیں جبکہ ان کے مشیر معیشت پر توجہ دینے پر زور دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد ایران پر حملے کے حق میں ہیں لیکن ان کی معاشی ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ نئی جنگ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے امریکی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ امریکی صدر کے مشیروں کا اصرار ہے کہ اس وقت ترجیح معاشی استحکام ہونا اور سفارتکاری ہونی چاہیے، مگرڈونلڈ ٹرمپ اپنے مآقف پر قائم ہیں کہ تہران نئی ڈیل کرے ورنہ سنگین نتائج بھگتنے کیلیے تیار رہے۔ گزشتہ روز امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امریکی صدر ایران پر محدود فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں، تہران پر محدود فوجی حملے کا مقصد جوہری معاہدے پر مطالبات منوانا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ابتدائی فوجی کارروائی کے بعد ایران نے معاہدہ نہ کیا تو مکمل پیمانے پر حملے ہو سکتے ہیں، ابتدائی حملے میں تہران میں چند فوجی یا سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ اس بارے میں سوچ رہا ہوں۔ انہوں نے تہران کو 10 دن کا الٹی میٹم دے دیا اور کہا کہ معاہدہ نہ کیا تو اس کو سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔ ایئر فورس ون طیارہ میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے خبردار کیا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ دس یا پندرہ دن میں معاہدہ کر لے، اگر معاہدہ نہ کیا تو اس کو سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments