International

ٹرمپ انتظامیہ کیوبا میں حکومتی نظام تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے : وال اسٹریٹ جرنل

ٹرمپ انتظامیہ کیوبا میں حکومتی نظام تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے : وال اسٹریٹ جرنل

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے با خبر ذرائع کے حوالے سے آج جمعرات کو انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سال کے اختتام تک کیوبا میں برسرِ اقتدار نظام کو تبدیل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کوشاں ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ، جس نے وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹایا، کیوبا کی حکومت کے اندر ایسی شخصیات کی تلاش میں ہے جو کمیونسٹ نظام کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے میں مدد دے سکیں، تاکہ یہ عمل رواں سال کے آخر تک مکمل کیا جا سکے۔ ایک عہدے دار نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے میامی اور واشنگٹن میں کیوبن جلاوطن افراد اور سول گروپوں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے دوران خاص طور پر اس بات پر توجہ دی کہ کیوبا کی موجودہ حکومت کے اندر کوئی ایسا فرد تلاش کیا جائے جو واضح حالات کو سمجھتا ہو اور کسی معاہدے پر آمادہ ہو۔ ذرائع نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ کے اندازوں کے مطابق کیوبا کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور اپنے اہم اتحادی نکولس مادورو کے زوال کے بعد کیوبا کی حکومت کبھی بھی اتنی کمزور نہیں رہی۔ امریکی انٹیلی جنس کے تجزیوں میں جزیرے کی معیشت کی ایک نہایت مایوس کن تصویر سامنے آئی ہے، جہاں بنیادی اشیا اور ادویات کی شدید قلت ہے اور بجلی کی فراہمی میں بار بار تعطل پیدا ہو رہا ہے۔ یہ بات ان افراد نے بتائی جو اس تجزیے سے آگاہ ہیں۔ اخبار کے مطابق اگرچہ امریکہ نے علانیہ طور پر کیوبا کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکی نہیں دی، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدار نجی طور پر کہتے ہیں کہ وہ جرات مندانہ کارروائی جس کے نتیجے میں مادورو کو اقتدار سے ہٹایا گیا، ہوانا کے لیے ایک پوشیدہ انتباہ ہونی چاہیے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے اعلیٰ سطحی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس اس وقت کیریبین جزیرے پر تقریباً سات دہائیوں سے قائم حکومت کے خاتمے کے لیے کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں ... تاہم مادورو کی گرفتاری اور اس کے بعد اس کے اتحادیوں کی جانب سے دی جانے والی رعایتوں کو کیوبا کے لیے ایک تنبیہی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے عہدیداروں کے مطابق 3 جنوری کو نکولس مادورو کی گرفتاری کی کارروائی اس کے ایک قریبی ساتھی کی مدد سے انجام دی گئی، جس کے نتیجے میں 32 کیوبن فوجی اور مادورو کی حفاظتی ٹیم سے وابستہ انٹیلی جنس عناصر ہلاک ہوئے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments