سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو ناقابل دفاع، لاپرواہ اور غیر ضروری قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کملا ہیرس نے کہا کہ یہ حملے علاقائی استحکام اور امریکی قیادت پر عالمی اعتماد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ کملا ہیرس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں گھسیٹ رہے ہیں جسے امریکی عوام نہیں چاہتے۔ میں واضح کرنا چاہتی ہوں: ’’میں ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے جنگ کی مخالفت کرتی ہوں، اور ہماری فوجوں کو اس جنگ کے لیے خطرے میں ڈالا جا رہا ہے جو ٹرمپ چاہتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ امریکی جانوں کے ساتھ ایک خطرناک اور غیر ضروری جُوا ہے، جو خطے کے استحکام اور دنیا میں ہماری ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔ جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ طاقت نہیں، بلکہ عزم کے پردے میں لپٹی ہوئی لاپرواہی ہے۔ ایران کے جوہری عزائم پر تشویش کا اعتراف کرتے ہوئے کملا ہیرس نے واضح کیا کہ فوجی کشیدگی اس خطرے سے نمٹنے کا درست طریقہ نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ٹرمپ پر انتخابی مہم کے دوران بیرونی جنگوں کے خاتمے کے وعدے سے پھرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ایران کے خطرے سے آگاہ ہوں، اور انہیں ہرگز جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، لیکن اس خطرے کو ختم کرنے کا یہ طریقہ نہیں ہے۔ کملا ہیرس نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے جنگیں ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، شروع کرنے کا نہیں، یہ جھوٹ تھا۔ پھر گزشتہ سال انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ یہ بھی جھوٹ تھا۔ انہوں نے فوری قانون سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امریکی کانگریس سے اپیل کی کہ وہ مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے۔ امریکی آئین کے تحت صدر کو جنگ میں داخل ہونے کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ لیکن اگر انہیں منظوری بھی حاصل ہو جاتی، تب بھی یہ اقدام غیر دانشمندانہ، غیر منصفانہ اور امریکی عوام کی حمایت سے محروم ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ