اسرائیلی پولیس کے حکام نے کہا ہے کہ رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ کے ارد گرد فورس تعینات کی جائے گی جبکہ فلسطینیوں نے اسرائیل پر احاطے میں پابندیاں عائد کرنے کا الزام لگایا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رواں ہفتے شروع ہونے والے ماہِ مقدس کے دوران لاکھوں کی تعداد میں مسلمان روایتی طور پر مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں، مذہب اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام سمجھی جانے والی یہ مسجد یروشلم شہر کے مشرقی حصے میں واقع ہے جس پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کیا تھا اور بعدازاں ساتھ ملا لیا تھا۔ یروشلم پولیس کے سینیئر افسر اریڈ بریومین کا کہنا ہے کہ ’فوجیوں کو دن رات کمپاؤنڈ کے اندر تعینات کیا جائے گا جبکہ نماز کے وقت اضافی ہزاروں پولیس اہلکار بھی تعینات ہوں گے۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس نے مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کے لیے 10 ہزار اجازت نامے جاری کرنے کی سفارش کی ہے جن کو یروشلم میں داخلے کے لیے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے اجازت ناموں کے لیے عمر کی حد کے حوالے سے تفصیل نہیں بتائی اور یہ بھی بتایا کہ فائنل تعداد کے بارے میں فیصلہ حکومت کرے گی۔ دوسری جانب فلسطینی یروشلم گورنریٹ کا کہنا ہے کہ اسے بتایا گیا ہے کہ اجازت نامے 55 برس سے زائد عمر کے مردوں اور 50 برس سے زائد کی خواتین کے لیے ہوں گے اور پچھلے برس بھی ایسا ہی طریقہ کار اپنایا گیا تھا۔ بیان میں اسرائیلی حکام پر الزام بھی لگایا گیا ہے کہ ان کی جانب سے سائٹ کے انتظامات دیکھنے والے اردن کے ادارے اسلامک وقف کو معمول کی تیاریوں سے روک دیا ہے جن میں سائبان کی تعمیر کے علاوہ طبی کلینکس کا قیام بھی شامل تھا۔ اسلامک وقف کے ذرائع کی جانب سے بھی پابندیوں کی تصدیق کی گئی ہے اور کہا ہے کہ رمضان شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل اس کے 33 ملازمین کو کمپاؤنڈ میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ طویل مدتی انتظامات کے تحت یہودی اس احاطے کا دورہ کر سکتے ہیں جو اس کو اپنے دوسرے مقدس ترین عبادت گاہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں تاہم دوسری جانب فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ اس کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اریڈ بریومین نے اپنے بیان میں بھی اسی عزم کو دوہرایا ہے کہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران یہودی انتہاپسندوں کی بڑھتی تعداد نے عبادت پر پابندی کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جن میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اتمار بین گویر بھی شامل ہیں اور انہوں نے 2024 اور 2025 کے دوران سکیورٹی کے وزیر کی حیثیت سے یہاں پر عبادت کی تھی۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ