امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے۔
امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک تہران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا بند نہیں کرتا، واشنگٹن ایران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھے گا۔
مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت جنگ سے پہلے کی سطح کے 80 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، تاہم ایران اس دعوے کی بارہا تردید کر چکا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور تہران پر زور دیا ہے کہ وہ یہ حملے بند کرے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم دنیا میں کہیں بھی ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ہیں، ہم ہر اس شخص یا ملک کے خلاف ہیں جو دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہا ہے کہ امریکا کے پاکستان کے ساتھ تعلقات ہیں، جغرافیائی نقطۂ نظر سے امریکا کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے بھارتی حکومت کو ایران سے تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے، بھارتی حکومت ایرانی رہنماوں سے ملاقات کرتی ہے، اسی طرح امریکا کو پاکستان سے تعلقات کی ضرورت ہے۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ایک طرح سے یہ ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے، پاکستان کے ساتھ تعلقات میں ہم ان سے بات چیت کریں تو شاید اس سے ہمیں مدد ملے، ممکن ہے کہ ان تعلقات کے ذریعے ہم بھارت کو لاحق خدشات دور کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments