واشنگٹن: امریکی مڈٹرم الیکشن قریب آتے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں ریکارڈ کمی آ گئی ہے، جس کے باعث ریپبلکنز امیدوار پریشان ہیں۔
برطانوی خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت گر کر ریکارڈ کم ترین سطح 31 فی صد پر آ گئی، مڈٹرم الیکشن میں 47 فی صد ووٹرز ڈیموکریٹس اور 35 فی صد ریپبلکنز کے حامی ہیں۔
ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز پر 12 پوائنٹس کی برتری بھی حاصل ہے، سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں پر 68 فی صد امریکیوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے سروے رپورٹس کو جھوٹا اور ڈیموکریٹس کا پروپیگنڈا قرار دیا۔ انھوں نے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل انتخابی مہم تیز کر دی ہے۔
کینیڈا کو توڑنے کی کوشش ناکام ہو گئی
ستمبر کے اواخر سے اب تک وہ ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں 29 ہزار میل (46,671 کلومیٹر) سے زیادہ سفر کر چکے ہیں۔ دو ماہ کے اندر شمالی کیرولائنا کا ان کا دوسرا دورہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اس جنوبی ریاست میں داؤ پر کتنا کچھ لگا ہوا ہے۔ اور صدر ٹرمپ نے اپنی مقبولیت کی شرح ریکارڈ حد تک گرنے کے باوجود منگل کو شمالی کیرولائنا میں ایک انتخابی جلسے کے دوران سیاسی حالات کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔
ٹرمپ اپنی تینوں صدارتی انتخابی مہمات میں شمالی کیرولائنا سے کامیاب ہوئے تھے، لیکن ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ اس سال وہ یہاں غیر معمولی کامیابی حاصل کریں گے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق امریکیوں کی واضح اکثریت بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ایران کے ساتھ جنگ سے ناخوش ہے۔
روئٹرز اور اِپسوس کے تازہ ترین سروے کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 31 فیصد رہ گئی ہے، جو ان کی دونوں صدارتی مدتوں کے دوران کسی بھی وقت کی کم ترین سطح ہے۔ شمالی کیرولائنا میں ابتدائی ووٹنگ کے دوران ریاستی اعدادوشمار کے مطابق ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز کے مقابلے میں دو گنا ووٹ ڈالے ہیں۔
مذکورہ سروے آن لائن کیا گیا ہے، جس میں امریکا کے 1,679 بالغ افراد نے حصہ لیا۔ ان میں 1,279 رجسٹرڈ ووٹرز شامل تھے۔ سروے کے نتائج میں تمام شرکا کے لیے غلطی کی گنجائش 2 فی صد پوائنٹس، جب کہ رجسٹرڈ ووٹرز کے لیے 3 فی صد پوائنٹس تھی۔
برطانوی خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت گر کر ریکارڈ کم ترین سطح 31 فی صد پر آ گئی، مڈٹرم الیکشن میں 47 فی صد ووٹرز ڈیموکریٹس اور 35 فی صد ریپبلکنز کے حامی ہیں۔
ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز پر 12 پوائنٹس کی برتری بھی حاصل ہے، سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں پر 68 فی صد امریکیوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے سروے رپورٹس کو جھوٹا اور ڈیموکریٹس کا پروپیگنڈا قرار دیا۔ انھوں نے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل انتخابی مہم تیز کر دی ہے۔
ستمبر کے اواخر سے اب تک وہ ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں 29 ہزار میل (46,671 کلومیٹر) سے زیادہ سفر کر چکے ہیں۔ دو ماہ کے اندر شمالی کیرولائنا کا ان کا دوسرا دورہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اس جنوبی ریاست میں داؤ پر کتنا کچھ لگا ہوا ہے۔ اور صدر ٹرمپ نے اپنی مقبولیت کی شرح ریکارڈ حد تک گرنے کے باوجود منگل کو شمالی کیرولائنا میں ایک انتخابی جلسے کے دوران سیاسی حالات کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔
ٹرمپ اپنی تینوں صدارتی انتخابی مہمات میں شمالی کیرولائنا سے کامیاب ہوئے تھے، لیکن ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ اس سال وہ یہاں غیر معمولی کامیابی حاصل کریں گے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق امریکیوں کی واضح اکثریت بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ایران کے ساتھ جنگ سے ناخوش ہے۔
روئٹرز اور اِپسوس کے تازہ ترین سروے کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 31 فیصد رہ گئی ہے، جو ان کی دونوں صدارتی مدتوں کے دوران کسی بھی وقت کی کم ترین سطح ہے۔ شمالی کیرولائنا میں ابتدائی ووٹنگ کے دوران ریاستی اعدادوشمار کے مطابق ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز کے مقابلے میں دو گنا ووٹ ڈالے ہیں۔
مذکورہ سروے آن لائن کیا گیا ہے، جس میں امریکا کے 1,679 بالغ افراد نے حصہ لیا۔ ان میں 1,279 رجسٹرڈ ووٹرز شامل تھے۔ سروے کے نتائج میں تمام شرکا کے لیے غلطی کی گنجائش 2 فی صد پوائنٹس، جب کہ رجسٹرڈ ووٹرز کے لیے 3 فی صد پوائنٹس تھی۔
واشنگٹن: امریکی مڈٹرم الیکشن قریب آتے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں ریکارڈ کمی آ گئی ہے، جس کے باعث ریپبلکنز امیدوار پریشان ہیں۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments