تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے عراقی تیل بردار جہازوں کے لیے مخصوص بحری راستے متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔
عراقی الاخباریہ چینل کو انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان جہاز رانی کے راستوں سے متعلق معاہدہ بھی طے پا چکا ہے، تاہم آبنائے ہرمز کھولنے کو امریکا کی جانب سے ایرانی شرائط تسلیم کرنے اور اسلام آباد مفاہمت کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد سے مشروط کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے حوالے سے اتفاق ہو چکا ہے، آبنائے ہرمز میں راستوں کا ایک مخصوص نقشہ تیار کیا جا چکا ہے، آبنائے ہرمز کھلی تو ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والا راستہ ہی استعمال ہوگا۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ثالثی کی پیشکش پر سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا، یہ پیش کش رواں ماہ کے شروع میں اس وقت کی تھی جب حوثیوں نے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ کیا تھا۔ تہران، فوجی کشیدگی کے خاتمے کے لیے اب بھی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے میں اور مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کو مذاکرات کے دوران امریکی فریق پر بھروسہ نہیں، کیونکہ ماضی میں مذاکرات کے کئی ادوار کے باوجود امریکا نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی۔ ان کے بقول، ماضی کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ مذاکراتی عمل کے دوران امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
عراقچی کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کے راستوں کے حوالے سے عمان کے ساتھ معاہدہ کیا ہے اور اس کی بین الاقوامی رجسٹریشن کا منتظر ہے۔ انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھولے جانے کی صورت میں ایران اور عمان کے طے کردہ راستے ہی بحری جہازوں کے لیے گزرگاہ ہوں گے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی اندرونی آبی حدود میں واقع ہے اور اس کا بین الاقوامی پانیوں سے تعلق نہیں۔ تاہم یہ آبنائے بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے اور اس کی قانونی حیثیت سے متعلق ایرانی مؤقف کو متفقہ بین الاقوامی اصول قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انھوں نے انصار اللہ اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کی پیشکش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پر کسی فریق کی جانب سے جواب نہیں ملا۔ ان کے مطابق، جواب نہ ملنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انصار اللہ اپنے فیصلے خود کرنے میں خودمختار ہے۔
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے عراقی تیل بردار جہازوں کے لیے مخصوص بحری راستے متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments