سپریم کورٹ نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی کے خلاف ہندوتوا نظریہ ساز ونایک دامودر ساورکر کے بارے میں کیے گئے تبصروں سے متعلق فوجداری شکایت اور نچلی عدالت کی جانب سے جاری سمن منسوخ کر دیا۔ ’دی ہندی‘ کی رپورٹ کے مطابق، عدالت عظمیٰ نے یہ فیصلہ مقدمہ چلانے کے لیے ضروری قانونی منظوری نہ ہونے کی بنیاد پر سنایا۔
جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس شیل ناگو پر مشتمل بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت کی جانب سے داخل حلف نامہ کا حوالہ دیا، جس میں اس مقدمہ کے سلسلہ میں ضروری منظوری دیے جانے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ جسٹس دتا نے ریاستی حکومت اور شکایت کنندہ سے کہا کہ قانونی منظوری ضروری ہے، لیکن یہاں ایسی کوئی منظوری موجود نہیں ہے، اس لیے قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
عدالت نے اس بنیاد پر لکھنؤ کے رہائشی نرپیندر پانڈے کی جانب سے دائر شکایت اور لکھنؤ کے مجسٹریٹ کی جانب سے راہل گاندھی کو جاری کیے گئے سمن، دونوں کو منسوخ کر دیا۔
خیال رہے کہ یہ معاملہ راہل گاندھی کے 17 نومبر 2022 کو مہاراشٹر کے اکولا ضلع میں ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے دوران ایک جلسہ میں ساورکر کے بارے میں دیے گئے بیان سے متعلق تھا۔ شکایت کنندہ وکیل نرپیندر پانڈے نے الزام عائد کیا تھا کہ راہل گاندھی نے جان بوجھ کر ساورکر کی توہین کی اور ان کے خلاف ایسے تبصرے ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہیں۔
شکایت میں راہل گاندھی کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 153 اے اور 505 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ الزام تھا کہ ان کے تبصرے سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنے اور لوگوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
اس معاملے میں راہل گاندھی نے نچلی عدالت کے سمن کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے 4 اپریل 2025 کو ان کی درخواست پر مداخلت سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سیشن کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد راہل گاندھی نے سپریم کورٹ کا رخ کیا۔
سپریم کورٹ نے اپریل 2025 میں اس معاملے کی کارروائی پر عبوری روک لگا دی تھی اور بعد میں جولائی 2025 میں سمن پر عائد روک میں توسیع کی تھی۔ جولائی میں اتر پردیش حکومت نے عدالت میں اپنے حلف نامہ کے ذریعہ نچلی عدالت کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجسٹریٹ نے دستیاب مواد، گواہوں کے بیانات اور تفتیشی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد سمن جاری کیا تھا۔
تاہم آج جمعہ کو سپریم کورٹ نے مقدمہ چلانے کے لیے درکار منظوری نہ ہونے کو بنیادی قانونی خامی قرار دیتے ہوئے شکایت اور مجسٹریٹ کے احکامات ہی منسوخ کر دیے۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
11 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments