پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس پر شدت پسندوں کے حملے میں ایک ایس ایچ او سمیت چار پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے دفاتر سے جاری بیان میں ان حملوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس پر دہشتگردوں کی فائرنگ کے واقعے میں چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں قیام امن کے لیے پولیس کی قربانیوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ محسن نقوی نے اس واقعے میں زخمی ہونے والے ڈی ایس پی کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا کی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سہیل آفریدی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او سمیت پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔ اس سے قبل اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے تھانہ پنیالہ کی حدود وانڈہ بڈھ میں شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ایس ایچ او سمیت 4 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ڈی ایس پی پہاڑ پور سرکل عدنان شدید زخمی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، گل بہار چوک کے مقام پر نامعلوم افراد نے تھانہ ہوید کی موبائل وین پر فائرنگ کی تھی۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ