پاکستان اور افغانستان کی افواج کے درمیان سرحدی علاقوں میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ افغان حکام اور مقامی رہائشیوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو اتوار کے روز تصدیق کی کہ دونوں جانب سے گولہ باری، ڈرون حملے اور فضائی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں ہلاکتوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ جمعرات سے شروع ہونے والی کشیدگی اس وقت بڑھی جب افغان فورسز نے سرحدی پٹی کے مختلف مقامات پر کارروائی کی، جس کے جواب میں پاکستان نے بھی زمینی اور فضائی حملے کیے۔ متعدد سرحدی اضلاع کے رہائشیوں نے بتایا کہ رات بھر گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔ افغان حکومت نے کہا ہے کہ مختلف صوبوں میں ڈرون حملوں اور شیلنگ سے کم از کم تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کابل کے شمال میں واقع بگرام ایئر بیس پر بھی فضائی حملوں کی اطلاع ملی، جہاں ایک مقامی رہائشی کے مطابق دھماکوں کی آوازیں پورے علاقے میں سنائی دیں اور صبح کے وقت دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ افغان صوبائی ترجمان فضل الرحیم مسکین یار نے کہا کہ پاکستانی طیاروں نے مبینہ طور پر بگرام ایئر بیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پاکستان نے اس سے قبل جمعے کو کابل اور قندھار سمیت اہم شہروں میں فضائی کارروائیوں کی تصدیق کی تھی، تاہم اتوار کے حملوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ کابل شہر میں بھی دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں جبکہ جگہ جگہ سکیورٹی چیک پوائنٹس میں اضافہ کر دیا گیا۔ اس ہفتے کے واقعات میں پاکستان نے پہلی بار اپنے فضائی حملوں کا ہدف افغان سرکاری تنصیبات کو بنایا، جو پہلے کارروائیوں سے ایک واضح تبدیلی ہے جن میں پاکستان کا کہنا تھا کہ وہ صرف شدت پسندوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق افغانستان میں 46 مقامات پر فضائی حملے کیے گئے ہیں اور 415 افغان فوجی مارے گئے ہیں، جبکہ پاکستان نے اپنے 12 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب افغان حکومت کے نائب ترجمان فطرت نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے 80 سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور افغان فورسز نے 27 پاکستانی چیک پوسٹیں قبضے میں لے لی ہیں۔ افغانستان نے اپنے 13 اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی۔ تورخم بارڈر کراسنگ کے قریب بھی رات بھر جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جبکہ پکتیا اور کنڑ میں حالات بدستور کشیدہ بتائے جا رہے ہیں۔ سرحدی کشیدگی کے باعث درجنوں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ خوست کے ایک بے گھر شہری جاوید نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری پاکستان پر دباؤ ڈال کر جنگ بندی کو یقینی بنائے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں تشدد کا یہ سلسلہ اکتوبر کے بعد سب سے شدید ہے، جب سرحدی جھڑپوں میں 70 سے زائد افراد مارے گئے تھے اور اس کے بعد سے دونوں ممالک کی زمینی سرحدیں زیادہ تر بند ہیں۔ گزشتہ سال قطر اور ترکی کی ثالثی میں جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار بھی ہوئے تھے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ