International

پاکستان نے قندھار میں فوجی تنصیبات اور ’دہشت گردوں کے خفیہ مراکز‘ کو نشانہ بنایا: پاکستان کے وزیر  اطلاعات

پاکستان نے قندھار میں فوجی تنصیبات اور ’دہشت گردوں کے خفیہ مراکز‘ کو نشانہ بنایا: پاکستان کے وزیر اطلاعات

پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے رات کے وقت افغانستان کے شہر قندھار میں طالبان کی تنصیبات اور ’دہشت گردوں کے خفیہ مراکز‘ پر حملے کیے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے اتوار کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ’پاکستان کے مسلح افواج نے 14 اور 15 مارچ کی درمیانی رات افغانستان میں فوجی تنصیبات اور دہشتگردوں کے خفیہ مراکز کو نشانہ بنایا، جن میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانے شامل تھے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ان حملوں میں پاکستانی فورسز نے قندھار میں تکنیکی معاونت کے انفراسٹرکچر اور ساز و سامان کے ذخیرہ کرنے کی جگہ کو بھی تباہ کیا، جو افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد معصوم پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال کر رہے تھے۔ قندھار میں ایک سرنگ بھی تباہ کی گئی، جو طالبان اور فتنہ الخوارج کے تکنیکی سازوسامان کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔‘ عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ’اسی طرح چترال سیکٹر میں افغانستان کے بادینی پوسٹ پر دہشت گردوں کے ایک پوائنٹ کو زمینی فورسز کے ذریعے ختم کیا گیا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’منسلک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ پاکستان نے ان تنصیبات اور دہشت گرد کیمپوں پر حملے کیے، جو افغان سرزمین سے دہشت گردی کی براہِ راست یا بالواسطہ حمایت کرتے ہیں۔ افغان حکومتی اہلکاروں اور میڈیا کے غلط پراپیگنڈہ کے برخلاف، کسی شہری آبادی یا بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔‘ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ کہ کوئی ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔ جبکہ ذبیح اللہ مجاہد نے اے ایف پی کو بتایا کہ حملوں سے قندھار میں ایک ڈرگ ری ہیبلیٹیشن سینٹر اور ایک خالی کنٹینر کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’جن مقامات کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ ان دونوں جگہوں سے کافی دور ہیں۔‘ خیال رہے کہ پاکستان کے ان حملوں سے ایک دن قبل جمعے کی رات کو افغانستان کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملے ناکام بنائے تھے۔ حکام کے مطابق کم از کم تین مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں راولپنڈی میں پاکستانی فوج کا ہیڈکوارٹر بھی شامل تھا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments