کابل: خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جب پاکستان کی جانب سے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب افغانستان کے متعدد سرحدی اضلاع پر فضائی حملے کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان حملوں میں کئی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ ایک ہی خاندان کے تقریباً 23 افراد ملبے تلے دب جانے کی خبر نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع بہسود میں ایک مکان پر پاکستانی فضائی حملے میں کم از کم 17 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ صوبہ ننگرہار میں طالبان حکومت کے وزارتِ اطلاعات اور ثقافت کے سربراہ امر قریشی بدان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 11 بچے شامل ہیں جبکہ باقی چھ خواتین اور مرد تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے اور لاشوں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ امر قریشی کے مطابق پانچ زخمیوں کو ننگرہار کے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق پاکستانی فضائی کارروائیوں میں صوبہ پکتیکا کے برمل اور اُرگون اضلاع کے علاوہ صوبہ ننگرہار کے خوگیانی، بہسود اور غنی کھیل علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سب سے زیادہ تباہی ضلع بہسود میں دیکھی گئی جہاں ایک رہائشی مکان مکمل طور پر منہدم ہو گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ حملے کے وقت گھر میں موجود تمام افراد سو رہے تھے، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔ افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارت دفاع نے ننگرہار اور پکتیکا کے ’شہری علاقوں‘ میں پاکستان کی جانب سے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔ بی بی سی پشتو کے مطابق، افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں کو ’افغانستان کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان اس عمل کو بین الاقوامی قوانین، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور اسلامی اقدار کی صریح خلاف ورزی سمجھتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزارت قومی دفاع ملک کی خودمختاری اور عوام کی سلامتی کے تحفظ کو اپنی جائز اور قومی ذمہ داری سمجھتی ہے اور مناسب وقت پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘ خیال رہے کہ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات نے دعویٰ کیا تھا کہ ’پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘ افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان حملوں پر ردِ عمل دیتے ہوئے پاکستان فوج پر افغانستان کی سرحد کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ