International

پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی، دیہات میں سطح شہروں سے دگنی

پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی، دیہات میں سطح شہروں سے دگنی

پاکستان میں غربت کی شرح میں گذشتہ چھ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پلاننگ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں غربت کی سطح 2018-19 میں 21.9 فیصد تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق شہروں میں غربت کی شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد ہو گئی، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ سطح 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد تک جا پہنچی۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں غربت 16.5 فیصد سے 23.3 فیصد، سندھ میں 24.5 فیصد سے 32.6 فیصد، خیبر پختونخوا میں 28.7 فیصد سے 35.3 فیصد اور بلوچستان میں 41.8 فیصد سے بڑھ کر 47 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غربت میں اضافے کی بڑی وجوہات میں کورونا وبا کے معاشی اثرات، عالمی سطح پر اجناس اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، ملک میں سیلابوں سے انفراسٹرکچر کی تباہی اور لیبر مارکیٹ کی مشکلات شامل ہیں۔ مالی سال 2024 میں اجناس اور توانائی کی قیمتیں بلند سطح پر پہنچیں، جس سے افراطِ زر اور اخراجات میں اضافہ ہوا۔ سابق وزیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے حکومتی رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شمار زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق عالمی بینک کی ریسرچ میں پاکستان میں غربت کی شرح 45 فیصد بتائی گئی ہے، جبکہ ان کی اپنی تحقیق کے مطابق یہ شرح 43 فیصد تک ہے۔ انھوں نے کہا کہ معاشی شرح نمو میں کمی، فی کس آمدنی میں گراوٹ اور خوراک و ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے غربت کو شدید متاثر کیا ہے۔ ڈاکٹر پاشا نے تجویز دی کہ غربت میں کمی کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں معاشی ترقی کی شرح کم از کم 4.5 سے 5 فیصد تک ہو، تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور آمدنی میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

Source: social meeia

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments