International

پاکستان میں چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ، دس اہلکار ہلاک: پولیس

پاکستان میں چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ، دس اہلکار ہلاک: پولیس

پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے باجوڑ میں ماموند میں ایک سکیورٹی پوسٹ پر خود کش حملے میں کم از کم دس افراد اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ اعلی پولیس حکام کے مطابق لوئی ماموند میں ایف سی اور پولیس کی مشترکہ چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ کر دیا۔ اس حملے میں دس اہلکار ہلاک ہوئے۔ دو اہلکار زخمی ہوئے۔ علاقے میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ایک اور نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے بارود سے بھری گاڑی اس عمارت سے ٹکرا دی ہے جس میں فرنٹیئر کور کی چیک پوسٹ قائم ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ اس عمارت میں پہلے ایک مدرسہ بھی فعال تھا۔ ایک اور اہلکار نے بتایا کہ اس حملے میں ایک پولیس اہلکار اور نو ایف سی اہلکاروں کی جان چلی گئی ہے جبکہ ملبے تلے سے اب بھی مزید لاشیں نکالی جا رہی ہیں۔ تاہم پاکستان کی فوج کی جانب سے ابھی تک کوئی اس واقعے اور ہلاکتوں سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ضلع باجوڑ کے ماموند کے علاقے ملنگی میں ایف سی چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ’دہشت گردوں کے حملے میں فورسز کے اہلکاروں سمیت ایک بچی کی ہلاکت انتہائی افسوسناک ہے۔‘ انھوں نے واقعے کے بعد ریسکیو اداروں کو فوری اور بھرپور امدادی کارروائیاں کرنے کی ہدایت جاری کی۔ سہیل آفریدی کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تیز کیا جا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل ماموند کے علاقے ملنگی میں ایک عمارت میں بارود سے بھڑی گاڑی کا دھماکہ ہوا ہے۔ اس عمارت میں پہلے ایک مدرسہ قائم تھا لیکن بعد ازاں یہاں سکیورٹی چیک پوسٹ قائم کر دی گئی تھی۔ لوئی ماموند ضلع کے شمال میں واقع ہے اور بنیادی طور پر ملنگی کا یہ علاقہ باجوڑ کے دوسرے بڑے بازار عنایت کلی سے تقریباً 12 سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ تحصیل ماموند کی سرحد ایک طرف افغانستان سے ملتی ہے جبکہ دوسری جانب خار بازار سے جڑتی ہے۔ اگر پشاور سے باجوڑ کی طرف سفر کیا جائے تو پہلے صدیق آباد اور پھر عنایت کلی آتا ہے، جس کے قریب ہی ملنگی کا علاقہ واقع ہے۔ باجوڑ میں حالات ایک عرصے سے کشیدہ ہیں اور آئے روز تشدد کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں۔ چند روز قبل واڑہ ماموند کے علاقے میں ایک حملے میں ایک پولیس انسپکٹر ہلاک ہوا تھا۔ اس سے پہلے بھی باجوڑ میں جمعیت علما اسلام کے مقامی قائدین پر حملے ہو چکے ہیں۔ دو برس قبل جے یو آئی کی ایک تقریب میں دھماکے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments