افغانستان کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے پانچویں روز پاکستان نے افغان فوج کے 67 اہلکار ہلاک کر دیے ہیں۔ پاکستان نے افغانستان کے 16 مختلف مقامات پر یہ کارروائیاں کیں۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے یہ کارروائیاں منگل کے روز اپنی جنوب مغربی سرحد کے نزدیک مختلف سرحدی مقامات پر کی ہیں۔ جہاں ان کارروائیوں کے دوران 67 افغانی فوجی اور ایک پاکستانی فوجی جاں بحق ہو گیا۔ سرکاری حکام کے مطابق دونوں برادر اسلامی ملک پڑوسیوں میں جنگ کا یہ سلسلہ پانچ روز سے جاری ہے۔ پاکستانی مسلح افواج نے کامیابی کے ساتھ پاک افغان سرحد کی طرف سے ہونے والی کارروائیوں کو روک دیا ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہی ہے۔ افغان فوجیوں نے 16 مختلف مقامات پر صوبہ بلوچستان کے ضلع سیف اللہ، موشکی اور چمن کے علاقوں میں کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم پاکستانی فورسز نے بروقت جواب دیتے ہوئے نہ صرف ان حملوں کو کامیابی سے روکا بلکہ 27 افغانیوں کو ہلاک کر دیا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا افغانستان کی طرف سے 25 دیگر مقامات پر بھی صوبہ خیبرپختونخوا میں کارروائیاں کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان افغان کارروائیوں کو بھی کامیابی سے روکا اور 40 افغانی ہلاک کر دیے۔ تاہم کابل میں سرکاری حکام نے ابھی تک ان کارروائیوں پر تبصرہ نہیں کیا۔ پاکستان اور افغانستان دونوں کی طرف سے پچھلی جمعرات کے روز سے ایک دوسرے کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ افغانستان کا یہ کہنا ہے کہ اس نے پاکستان کے خلاف کارروائیاں اس بمباری کے واقعات کے خلاف کی ہیں جو پاکستان نے صوبہ ننگر ہار اور پکتیا میں پچھلے دنوں کی تھی۔ پیر کے روز پاکستان کے وزیر اطلاعات نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اب تک پاکستان نے 435 افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے اور 16 افغان چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ حالیہ دنوں میں کابل نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے اس نے پاکستانی اہلکاروں کو بڑی تعداد میں نقصان پہنچایا ہے۔ آخری اعلان کے مطابق افغان فوجیوں کی ہلاکتوں کے یہ واقعات صدر زرداری کے اس بیان کے بعد آئے ہیں جس میں انہوں نے پاکستان کے حق دفاع کا تحفظ کیا ہے اور کہا اس سے پہلے پاکستان نے تمام سفارتی کوششیں اختیار کیں اور طالبان حکومت سے کہا کہ دہشت گردوں کو پاکستان میں کارروائیوں سے روکے اور انہیں غیر مسلح کرے۔ تاہم افغانستان کی طرف سے مثبت رویہ نہ ملنے کی وجہ سے پاکستان نے دہشت گردوں کو خود نشانہ بنایا۔ پاکستان ان آپریشنز کو دہشت گردوں کے خلاف اپنی کھلی جنگ کا نام دیتا ہے۔ جنہوں نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں مضبوط ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ ان دہشت گردوں میں ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش کے دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں دہشت گردی کے بدترین واقعات کا سامنا ہے۔ جن میں دہشت گرد تنظیمیں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی ملوث رہی ہیں جو افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ تاہم طالبان حکومت ان دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کے پاکستانی دعوے کی تردید کرتی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس تنازعے کے باعث چند ماہ پہلے بھی سرحد پار حملے اور کارروائیاں کی گئی تھیں۔ تاہم قطر اور ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے جنگ بندی کروادی تھی۔ اب ایران پر امریکی و اسرائیلی حملہ ہونے سے ایک روز پہلے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پھر جنگی کارروائیاں شروع ہوگئیں۔ جن کا اب پانچواں دن مکمل ہوچکا ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ