برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا ہے کہ ویزہ فری سفر اور محصولات سمیت معاملات پر ’نہایت اچھی پیش رفت‘ ہوئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کیئر سٹارمر کا دورہ چین 2018 کے بعد سے کسی برطانوی وزیراعظم کا پہلا دورہ ہے اور یہ حال ہی میں بیجنگ کے ساتھ ہم آہنگی کے خواہاں دیگر مغربی رہنماؤں کی پیروی میں کیا گیا ہے۔ یورپی رہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مختلف بیانات اور پالیسیوں کے بعد سے غیرمتوقع صورتحال سے دوچار ہیں۔ چینی صدر اور سٹارمر نے ’گریٹ ہال آف دی پیپل‘ میں ملاقات کی اور دونوں رہنماؤں نے جغرافیائی سیاسی حالات کا سامنا کرنے کے لیے قریبی تعلقات کی ضرورت پر زور دیا۔ کیئر سٹارمر نے شی جن پنگ کو بتایا کہ چین ’عالمی سطح پر ایک اہم کھلاڑی‘ ہے اور ’زیادہ مؤثر تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے جہاں ہم تعاون کے مواقع کو تلاش کریں۔‘ چینی صدر نے ایک ’پیچیدہ‘ بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں ’طویل مدتی نقطہ نظر‘ کے ساتھ مضبوط تعلقات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے تعلقات میں تعاون ایک ’نیا باب‘ کھولے گا۔ برطانوی وزیراعظم سنیچر تک چین کے دورے پر ہیں۔ چینی صدر سے ملاقات کے بعد انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہسکی ٹیرف جیسے معاملات پر پیش رفت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات ’مضبوط جگہ‘ پر ہیں۔ برطانوی وزیراعظم نے چینی وزیراعظم لی کیانگ سے بھی ملاقات کی اور اُن کے ہمراہ تعاون کے متعدد معاہدوں پر دستخطوں کی تقریب میں شرکت کی۔ برطانوی وزیراعظم کے دفتر ڈاؤننگ سٹریٹ نے اعلان کیا کہ بیجنگ نے 30 دن سے کم عرصے کے لیے چین کا دورہ کرنے والے برطانوی شہریوں کے ویزہ فری سفر پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ دو طرفہ معاہدوں میں انسانی سمگلروں کے سپلائی چینز کو نشانہ بنانے کے ساتھ چین کو برطانوی برآمدات، شعبہ صحت اور ’برطانیہ چین تجارتی کمیشن‘ کو مضبوط بنانے پر تعاون بھی شامل ہے۔ برطانیہ میں بے ضابطہ تارکین وطن کا مسئلہ وزیراعظم کیئر سٹارمر کے لیے انتہائی حساس ہے۔ اُن کی حکومت نے اپنے شہریوں سے سمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے اور آنے والے تارکین وطن کو روکنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ لی کیانگ نے کہا کہ ’چین اور برطانیہ اپنے تعلقات کے سنہری دور کو دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔‘ ایک دہائی قبل دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات قائم تھے۔ چینی وزیراعظم نے کیئر سٹارمر کو بتایا کہ ’چین اور برطانیہ نے یکے بعد دیگرے متعدد شعبوں میں بات چیت اور تبادلے دوبارہ شروع کیے ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ چین اور برطانیہ ترقی اور تعاون پر قائم ہیں۔‘ برطانوی وزیراعظم نے جواب میں ’ایک ساتھ مل کر کام کرنے کے طریقے تلاش کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا جو حالیہ وقت کے لیے موزوں ہو۔‘ برطانوی وزیراعظم جمعے کو چین کے اقتصادی پاور ہاؤس شنگھائی کا بھی دورہ کریں گے۔ واپس برطانیہ جاتے ہوئے وہ جاپان میں وزیراعظم سنائے تاکائیچی سے ملاقات کے لیے ٹوکیو مختصر وقت کے لیے رُکیں گے۔
Source: Social Media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ