International

ویرونیکا نامی گائے کا حیران کن عمل، سائنس دان دنگ رہ گئے… آخر کیوں؟

ویرونیکا نامی گائے کا حیران کن عمل، سائنس دان دنگ رہ گئے… آخر کیوں؟

اب اوزاروں کی کہانی انسان کے ہاتھوں تک محدود نہیں رہی، فطرت نے اس باب میں ایک نیا صفحہ کھول دیا ہے۔ ایک بھوری رنگ کی گائے، ویرونیکا، ان دنوں سوشل میڈیا پر محض ایک جانور نہیں بلکہ ایک سوال بن کر ابھری ہے۔ وائرل ہونے والی ویڈیوز میں وہ نہایت شعور اور مہارت کے ساتھ اوزار استعمال کر کے اپنی پیٹھ کھجاتی دکھائی دیتی ہے،ایسا منظر جو دیکھنے والے کو چونکا بھی دیتا ہے اور سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ شاید ذہانت کی سرحدیں وہ نہیں، جو ہم برسوں سے کھینچتے آئے ہیں۔ یہ مشاہدہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گائیں وہ ذہنی صلاحیتیں بھی رکھ سکتی ہیں ،جن کا پہلے تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ یہ انکشاف سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔ اس تحقیق کی سربراہی آسٹریا کی ویانا یونیورسٹی آف ویٹرنری میڈیسن سے تعلق رکھنے والی علمیاتی حیاتیات کی ماہر ایلس اوئیرسبرگ نے کی۔ انہوں نے بتایا کہ مویشیوں کی ذہانت کے بارے میں ہمارے تصورات دراصل مشاہدے کی کمی کا نتیجہ ہیں، نہ کہ ان کی حقیقی ذہنی حدود کا۔ اوئیرسبرگ کے مطابق یہ تحقیق اس وقت شروع ہوئی جب انہوں نے اور ان کے ساتھی انتونیو اوسونا-ماسکارو نے ایک ویڈیو دیکھی، جس میں ویرونیکا لاٹھیوں اور برش جیسی اشیا کو استعمال کرتے ہوئے اپنے جسم کے اُن حصوں کو کھجا رہی تھی جہاں منہ سے پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ویرونیکا کا مالک آسٹریا کا ایک کسان ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اس کے صفائی کے اس معمول کا مشاہدہ کر رہا تھا، مگر اس منظر نے پہلی بار سائنس دانوں کی توجہ حاصل کی۔ اوئیرسبرگ کا کہنا ہے کہ ویڈیو دیکھتے ہی واضح ہو گیا کہ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ اوزار کے شعوری استعمال کی ایک اہم مثال ہے، وہ بھی ایسے جانور میں جسے عام طور پر ذہنی تحقیق کے دائرے میں نہیں لایا جاتا۔ ماضی میں اوزاروں کا استعمال صرف انسانوں تک محدود سمجھا جاتا تھا، مگر بعد ازاں یہ صلاحیت شمپینزی، قاتل وہیل اور کوّوں جیسے جانوروں میں بھی دیکھی گئی۔ اب اس فہرست میں گائے کا شامل ہونا سائنسی دنیا کے لیے خاصا چونکا دینے والا ہے۔ یہ جانچنے کے لیے کہ آیا ویرونیکا کا یہ عمل محض اتفاق تھا یا واقعی ایک صلاحیت محققین نے اس گائے کا براہِ راست مشاہدہ کیا اور تجربات کا ایک سلسلہ انجام دیا۔13 سالہ ویرونیکا کو مختلف اوزار خصوصاً ایک برش فراہم کیا گیا۔ تحقیق میں سامنے آیا کہ وہ اس برش کو صرف مخصوص حصوں جیسے پیٹھ، پچھلے دھڑ، تھن اور دیگر مشکل مقامات پر استعمال کرتی ہے جہاں منہ نہیں پہنچ سکتا۔ اس دوران ویرونیکا اپنے منہ کی مدد سے اوزار کی گرفت بدلتی اور اسے مضبوطی سے تھامتی رہی، جو اعلیٰ درجے کے کنٹرول اور درستگی کا ثبوت ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مہارت بعض اینی میٹڈ کرداروں سے بھی مشابہت رکھتی ہے۔مزید حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ویرونیکا نے برش کے کھردرے حصے کو جسم کے موٹے اور سخت حصوں پر استعمال کیا، جبکہ ہموار حصے کو زیادہ حساس جگہوں کے لیے چنابالکل ایسے جیسے کوئی شخص ذاتی صفائی کے لیے سوئس آرمی نائف استعمال کرتا ہو۔وہ مختلف جسمانی حصوں کے مطابق اپنا طریقہ بھی بدلتی رہی؛ کہیں وسیع اور زور دار حرکات، تو کہیں نہایت نرمی اور باریکی سے صفائی۔ انتونیو اوسونا-ماسکارو کے مطابق سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ ویرونیکا اپنی جسمانی حدود کے باوجود اپنے عمل کے نتائج کو پہلے سے بھانپ لیتی ہے اور اسی کے مطابق اپنی گرفت اور حرکات میں تبدیلی کرتی ہے۔ انہوں نے ویرونیکا کے اس کثیرالجہتی صفائی کے عمل کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ یہ گائے اوزاروں کو حقیقی لچک کے ساتھ استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ویرونیکا نے یہ مہارت کیسے حاصل کی، تاہم محققین کا خیال ہے کہ اس کی طویل عمر، انسانوں کے ساتھ مسلسل رابطہ اور کھلے ماحول تک رسائی جیسے عوامل نے اسے تجربہ کرنے کے زیادہ مواقع فراہم کیے، جس کے نتیجے میں یہ غیر معمولی صلاحیت سامنے آئی۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments