واشنگٹن، 04 جنوری: عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں وینزویلا امریکی طاقت کی تازہ ترین مداخلت کا مرکز بن گیا، جہاں ٹرمپ انتظامیہ نے ایک بڑے فوجی آپریشن کے ذریعے صدر نیکولس مادورو کو گرفتار کر لیا۔ اگرچہ اس اقدام کو منشیات اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور علاقائی سلامتی کی بحالی کے طور پر پیش کیا گیا، مگر زمینی حقائق اس دعوے سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اس کارروائی کے پسِ پردہ محرکات کو زیادہ دیر تک پردے میں نہیں رکھا۔ ایک ٹیلی ویژن خطاب میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی کی امریکی حکومتوں نے وینزویلا کے تیل پر امریکہ کا حق ''چھوڑ دیا'' تھا اور اب اسے دوبارہ حاصل کرنا ضروری ہے ۔ اس بیان نے امریکی کارروائی کے اصل مقصد پر سے پردہ اٹھا دیا۔ وینزویلا محض ایک عام تیل پیدا کرنے والا ملک نہیں، بلکہ دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر کا حامل ہے ۔ ملک کے ثابت شدہ ذخائر 303 ارب بیرل سے تجاوز کر چکے ہیں، جو اسے عالمی سطح پر پہلے نمبر پر رکھتے ہیں۔ دنیا کے مجموعی تیل ذخائر میں وینزویلا کا حصہ تقریباً 18 فیصد بنتا ہے ، جو کسی بھی بڑی طاقت کے لیے شدید کشش رکھتا ہے ۔ تاہم بین الاقوامی پابندیوں، داخلی بدعنوانی اور طویل معاشی بحران نے وینزویلا کی تیل پیداوار کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ یہی کمزوری بیرونی طاقتوں کے لیے مداخلت کا راستہ ہموار کرتی رہی ہے ، جس کا تازہ مظہر امریکی فوجی کارروائی کی صورت میں سامنے آیا۔ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والا عنصر وینزویلا اور اس کے ہمسایہ ملک گیانا کے درمیان جاری تنازع ہے ، جہاں حالیہ برسوں میں تیل کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ توانائی سے متعلق تحقیقی ادارے ریسٹاد انرجی کے مطابق ان ذخائر کا حجم تقریباً 13 ارب بیرل کے برابر ہے ، جس نے خطے کی تزویراتی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے ۔ دنیا کے بڑے تیل ذخائر رکھنے والے ممالک کی فہرست میں وینزویلا سرفہرست ہے ، جس کے بعد سعودی عرب، ایران، کینیڈا اور عراق آتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کی توجہ وینزویلا پر کیوں مرکوز ہے ۔ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اچانک فوجی دراندازی اور صدر کی گرفتاری کو محض ایک سکیورٹی کارروائی قرار دینا مشکل ہے ۔ ایک پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ کا یہ اعلان کہ امریکہ عارضی طور پر وینزویلا کا انتظام سنبھالے گا تاکہ تیل کے بنیادی ڈھانچے کو بحال کیا جا سکے ، اس تاثر کو مزید تقویت دیتا ہے کہ یہ اقدام دراصل توانائی کے وسائل پر کنٹرول کی ایک منظم کوشش ہے ۔ مبصرین کے مطابق وینزویلا بحران نے ایک بار پھر یہ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ عالمی سیاست میں ''قومی سلامتی'' اور ''دہشت گردی کے خلاف جنگ'' جیسے نعروں کے پیچھے اکثر معاشی مفادات، بالخصوص تیل اور توانائی کے وسائل، اصل محرک ہوتے ہیں۔
Source: uni news
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ