International

ٹرمپ کی غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق کی دو ٹوک مخالفت ،بنجمن نیتن یاھو حکومت کو بڑا جھٹکا

ٹرمپ کی غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق کی دو ٹوک مخالفت ،بنجمن نیتن یاھو حکومت کو بڑا جھٹکا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے (الحاق) کی سخت مخالفت کی گئی ہے۔ ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے کسی بھی اسرائیلی اقدام کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں۔ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی عہدیدار نے واضح کیا کہ مغربی کنارے کا استحکام اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے ایک بنیادی عنصر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ استحکام خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے وسیع تر ہدف کے بھی عین مطابق ہے۔ گذشتہ اتوار کو اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے ایسے اقدامات کی منظوری دی تھی جن سے مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے لیے زمینوں کی خریداری آسان ہو جائے گی، جبکہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حکام کے نافذ العمل اختیارات میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے تحت اسرائیلی حکام کو بعض مذہبی مقامات کا انتظام سنبھالنے اور فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں میں ماحولیاتی خطرات، پانی کی خلاف ورزیوں اور آثار قدیمہ کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق مسائل پر نگرانی اور کارروائی کے وسیع اختیارات مل جائیں گے۔ ان فیصلوں میں برسوں پرانے ان قوانین کو بھی ختم کر دیا گیا ہے جو یہودیوں کو مغربی کنارے میں زمین خریدنے سے روکتے تھے۔ نئی پالیسی کے تحت الخلیل سمیت مختلف فلسطینی شہروں کے حصوں میں بستیوں کی تعمیر کے لیے لائسنس جاری کرنے کا اختیار فلسطینی اتھارٹی کے بلدیاتی اداروں سے چھین کر اسرائیل کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ عبرانی نیوز ویب سائٹ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق الخلیل کے یہودی محلے میں تعمیراتی پالیسی میں تبدیلی کے لیے پہلے مقامی بلدیہ اور اسرائیلی حکام دونوں کی منظوری ضروری ہوتی تھی، مگر اب صرف اسرائیلی منظوری ہی کافی ہوگی۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے سنہ 1967 سے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے جسے مستقبل کی فلسطینی ریاست کا اہم ترین حصہ ہونا چاہیے، تاہم اسرائیل کے کٹر پسند دائیں بازو کے رہنما اور آباد کار اسے گریٹر اسرائیل کا حصہ سمجھتے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے کے ان علاقوں پر محدود کنٹرول رکھتی ہے جو جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے کٹ چکے ہیں۔ مقبوضہ بیت المقدس کے علاوہ مغربی کنارے میں اس وقت 5 لاکھ سے زائد اسرائیلی آباد کار غیر قانونی بستیوں میں مقیم ہیں، جبکہ وہاں 30 لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 میں بستیوں کی تعمیر سنہ 2017 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ صرف گذشتہ برس سنہ 2025 کے ماہ دسمبر میں اسرائیل نے 19 نئی بستیوں کے قیام کی منظوری دی تھی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments