National

وقف ترمیمی بل مسلمانوں کی مذہبی خودمختاری کو نقصان پہنچائے گا: اسٹالن

وقف ترمیمی بل مسلمانوں کی مذہبی خودمختاری کو نقصان پہنچائے گا: اسٹالن

چنئی، 02 اپریل :تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور دراوڑ منیترا کژگم کے صدر ایم کے اسٹالن نے بدھ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی پر زور دیا کہ وہ وقف (ترمیمی) بل 2025 کو مکمل طور پر واپس لیں اور یہ کہا کہ اس بل سے مسلم کمیونٹی کے مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا اور ان کی مذہبی خودمختاری کو کمزور کرے گا۔ اپوزیشن جماعتوں کے شدید اعتراضات کے درمیان ترمیمی بل آج پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔ مسٹر اسٹالن نے مسٹر مودی کو لکھے ایک نیم سرکاری خط میں، جس کی کاپیاں یہاں میڈیا کو جاری کی گئیں، کہا کہ وقف ایکٹ میں مجوزہ ترمیم وقف املاک کے پروژن اور تحفظ میں وقف بورڈ کے اختیارات اور ذمہ داریوں کو کمزور کردے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ایکٹ کی مختلف دفعات میں تجویز کردہ بڑے پیمانے پر ترامیم، اس ایکٹ کی بنیادی روح کو کمزور کر دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ موجودہ وقف ایکٹ 1995 میں وقف کے مفادات اور املاک کے تحفظ کے لیے واضح شقیں موجود ہیں، اس لیے اس ایکٹ میں ایسی دور رس ترامیم کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وقف ترمیمی بل کو مکمل طور پر واپس لیا جائے۔ وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے کہا کہ تمل ناڈو اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے معاملے میں ہمیشہ آگے رہا ہے، جہاں تمام مذاہب کے لوگ ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے ساتھ رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے، اور منتخب حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حق کی حفاظت کریں۔ انہوں نے کہا، "تاہم، وقف ایکٹ 1995 میں مجوزہ ترامیم میں اقلیتوں کو دیے گئے آئینی تحفظ کو نظر انداز کیا گیا ہے، جس سے مسلم کمیونٹی کے مفادات کو سنگین نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔" وزیر اعلیٰ اسٹالن نے مزید کہا، "موجودہ وقف ایکٹ کے قوانین وقت کی کسوٹی پر پورے اترے ہیں اور یہ وقف کی جائیدادوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں۔" انہوں نے خبردار کیا کہ وقف ایکٹ میں مجوزہ ترامیم وقف املاک کے نظم و نسق اور ان کے تحفظ میں وقف بورڈز کے اختیارات اور ذمہ داریوں کو کمزور کر دیں گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون کی متعدد دفعات میں تجویز کردہ ترامیم، اس کی اصل روح کو نقصان پہنچائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ شرط کہ کم از کم پانچ سال تک اسلام پر عمل کرنے والا شخص ہی وقف کو جائیداد عطیہ کر سکتا ہے، غیر مسلموں کو وقف کے لیے جائیداد عطیہ کرنے سے روک دے گی، جو ملک کی مذہبی ہم آہنگی اور ثقافتی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا، "چونکہ موجودہ وقف ایکٹ 1995 مکمل طور پر مؤثر ہے اور وقف کے مفادات اور املاک کے تحفظ کے لیے واضح پروژن رکھتا ہے، اس لیے ہمارا ماننا ہے کہ اس میں ایسی دور رس ترامیم کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔"

Source: uni news

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments