´غیر دستوری اور غیر آئینی وقف بل کو مکمل طور پرمسترد کیا جائے : ندیم الحق یہ زبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں سے لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی۔ایم پی ندیم الحق نے وقف ترمیمی بل کے سلسلے میں راجیہ سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ یہ بل صرف کوئی قانونی مسودہ نہیں ہے بلکہ ملک کی تعمیر اور دستور کی روح ہے۔یہ ہمارے دستور کی روح اور پرانی روایت سے جڑا ہوا مستقبل کا معاملہ ہے۔ ہم ایک ایسے فکر مند ہندوستانی شہری کیطرح کھڑے ہیں۔ کیاہم ان روایتوںکو بھلا سکتے ہیں۔ جس نے ہمیں ایک دیش اور ایک قوم بنایا ہے۔ آج ہم جس وقف بل پر بات کررہے ہیں یہ معاملہ صرف مسلمانوں سے جڑا ہوا نہیں ہے بلکہ پورے ہندوستان کے سماجی توازن اور اتحاد سے جڑا ہوا ہے۔ یہ بل ہمارے بنیادی حق کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی معاملہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ دستوری معاملہ بھی ہے۔ یہ سنگین مسئلہ ہے۔ ممتا بنرجی نے ہمیں ذمہ داری دی ہے کہ ہم دستور کی دفاع کریں۔ دستور ہمارے لئے صرف ایک کتاب ہی نہیں بلکہ یہ ہمیں راستہ دکھاتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ ہم بھارت کےلئے اپنا آخری قطرہ خون دینے کےلئے تیار ہوں۔اس ترمیمی بل میں قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ یہ ایک غیر مناسب قدم ہے۔اس میں آئینی اصولوں کی پامالی کی گئی ہے۔ اس میں غیر منتقی فیصلے کئے گئے ہیں۔ یہ اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ وقف دراصل صدقہ جاریہ ہے۔ ایسی خیرات ہے جو ہمیشہ کےلئے ہے۔ یہ ترمیمی بل وقف کی روح اور ایمان کو کمزور کرتا ہے۔ یہ حکومت اس بات کو سمجھنے میں ناکام ہے۔ وقف کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ حکومت نے وقف کیا ہے اسے جاننے کی کوشش میں وقف کی تاریخی اور مذہبی حیثیت سے محروم کر دیا ہے۔اصلاح کے نام پر ہماری صدیوں پرانی دینی اور سماجی اداروںکو نیا نام دینا ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں ہے۔اس بل کے ذریعہ وقف کو حدسے زیادہ سرکاری کنٹرول میںلانے کی کوشش کی گئی ہے۔جس بل کو امید کا نام دیا گیا ہے وہ دراصل مایوسی اور بے چینی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ہم کو ان سے وفا کی امید ہے جو نہیں جانتے کہ وفا کیا ہے۔ اس ترمیمی بل میں شرط رکھی گئی ہے کہ پانچ سال اسلامی اصولوں پر عمل کرنے والا ہی اپنی جائیداد وقف کرسکتا ہے۔ یہ پابندی صرف مسلمانوں پر ہی لاگو کیا گیا ہے۔ ہندو ، سکھ اور عیسائی پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ایم پی ندیم الحق نے کہا کہ پانچ سال کا سرٹیفیکٹ کون دیگا کہ یہ پریکٹسنگ مسلمان ہے یا نہیں ہے۔ جے پی سی نے سونے پے سہاگہ کا کام یہ کیا کہ اس نے پریکٹسنگ کے ساتھ ڈومونسٹریٹ بھی لگادیا ہے۔یعنی مسلمانوں کو رجسٹرڈ ہونا ہوگا۔ یہ مکمل طور پر غیر دستوری ہے ۔ اور آرٹیکل چودہ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔اور اس برابری میں امتیاز نہیں کیا جاسکتا۔ ترازو ہے توازن میں نہیں ہے تو برابر کیسے تولہ جارہا ہے۔زبانی وقف اور وقف بائی یوزر خارج کر دیا گیا ہے۔جبکہ زبانی اعلان کے ذریعہ بھی وقف کیا جاسکتا ہے۔قبرستان، مدارس اور مساجد وغیرہ اسی طرح سے استعمال ہوتا رہتا ہے۔یہ سب وقف بل کے دائرے میں آگیا ہے۔اس تبدیلی سے کمیونیٹی پراپرٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔جبکہ یہ ادارے نسلوں سے لوگوں کی خدمت کرتے چلے آ رہے ہیں۔یہ ایک طرح کا کلچرل ونڈلزم ہے۔ اس بل میں وقف الاولادپیش کیا گیاہے۔ جبکہ وقف کی ہوئی جائیدا د ناقابل واپسی اور نیک نیتی پر ہوتی ہے۔ ایم پی ندیم الحق صاحب نے کہا کہ تر میمی بل میں ڈیجیٹل نظام اور وامسی پورٹل کی بات کہی گئی ہے جبکہ ہرکوئی جانتا ہے کہ اس طرح کے پورٹل کتنے بار کراش کر جاتے ہیں۔ اس سے رجسٹریشن میںتاخیر ہوسکتی ہے۔ ہم اپنی مذہبی جائیدادوں کا مستقبل اس طرح کے پورٹل پر نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس بل کا مقصد ریاستی وقف بورڈ کونسل میں سے مسلم نمائندوںکو کم کرنا ہے۔ اس میں یہ بات کہی گئی ہے کہ سی ای او کوئی غیر مسلم ہوسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اسے وقف کے بارے میں جانکاری ہو۔ بل کی ڈرافٹنگ میں خامی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ کوئی بھی غیر مسلم ممبر دسکوالیفائڈ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو پارلیمانی کمیٹی کے پاس اسکورٹنی کےلئے بھیجا جائے۔خواتین کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بل میں خواتین کو اختیار دینے کی بات کہی گئی ہے جبکہ خواتین اس میں پہلے سے ہی ممبر ہیں۔ا نہوں نے اس سلسلے میں کشمیر کی ڈاکٹر درخشاں، کولکاتا کی ڈاکٹر سید نسرین اور کیرلا کی منورہ بیگم کا نام لیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ممتا بنرجی کی حکومت نے انتالیس فیصد خواتین کو ریزرویشن دے رکھا ہے اور آپ چودہ فیصد کو لے کر اتنا شور مچا رہے ہیں۔اس بل میں نامزدگی کی بات کہی گئی ہے جو آرٹیکل چودہ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اس بل کے ذریعہ بوہرہ اور آغا خانی کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ ان لوگوں نے خود کہا ہے کہ انہیں اس طرح کے نظام میں شامل نہیں ہونا ہے۔ پھر بھی آپ ان کا حوالہ دے رہے ہیں۔اسے لمیٹیشن ایکٹ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ یہ ایکٹ ایک عام ایکٹ ہے۔ اس ترمیمی بل کے ذریعہ ریاست کے اختیارات کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج مسلمانوں کے وقف کی جائیداد نشانے پر ہیں کل مندر، گردوارے اور چرچ بھی اس کے نشانے پر آجائیں گے۔انہوں نے تمام ممبروں سے اس بل کی مخالفت کرنے کی اپیل کی۔اور کہا کہ صرف مذہب کی بنیاد پر ہی نہیں فیڈرل اصولوں پر بھی اس کی مخالفت کریں۔اگر آپ کو وقف میں ریفارم کرنا ہی ہے تو سفارشات کو تسلیم کرلیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ کےلئے نیشنل بورڈ قائم کریں۔ وقف کی جائیدادوںپر سرکاری ایجنسیوں کا قبضہ چھڑانے کی بات کہی گئی ہے۔ اس پر عمل کریں۔انہوں نے کہا کہ وقف کوئی عام ادارہ نہیں ہے بلکہ یہ روحانی، ایمانی وراثت ہے۔ انہوں نے ایوان سے اپیل کی کہ اس بل کو مکمل طور پر مسترد کریں۔اگر ا س میں ترمیم کرنا ہی ہے تو ملک کے اتحاد اور مشورے سے کریں۔یہ بل ملک کی سیکولرزم، دستور اور جمہوریت کا امتحان ہے۔ بولڈوزر کی سیاست پر انہوں نے کہا کہ بولڈوزر سے ہمارے دل سے ہمارے ہندوستا نی ہونے کے جذبات کو نہیں کچل سکتے۔ ہمارے پرخوں کی قبریں یہیں ہیں اور ہماری بھی قبر یہیں ہوگی اور ہمارے آنے والی نسلوں کی بھی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ وقف بورڈ کو بائی پاس کیا جا رہا ہے۔یہ ایک اینٹی فیڈرل قدم ہے۔پہلے وقف املاک پر غیر قانونی قبضے کے سلسلے میں دو سال کی سزا تھی اس میں ترمیم کرکے چھ مہینے کی سزا کر دی گئی ہے۔پہلے یہ غیر ضماتی معاملہ تھا اب اسے ضمانتی معاملہ کر دیا گیا ہے۔اس بل کی خطرناک پہلو یہ ہے کہ وقف کی جائیدادوںکی ذمہ داری سرکاری افسروں کو دی گئی ہے۔ ضلع سطح کا کلکٹر یہ طے کرے گا کہ کون سے جائیداد وقف کی ہے کون سے نہیں۔یہ آرٹیکل چوبیس ور پچیس کی کھلی خلاف ورزی ہے۔پہلے ٹرائبونل فیصلے کیا کرتے تھے اب اسے گھسیٹ کر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک لے جایا جاسکتا ہے۔ مذہب نہیں سکھا تا آپس میں بیر رکھنا ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستان ہمارا ۔ جو ہمارے ساتھ وہ ہمارے ساتھ، سب کا ساتھ سب کا بکاش بند کرو۔ کہاں گیا سب کا ساتھ سب کا بکاش ، دو سو چالیس ہوا۔ ان میں سب کا ساتھ لے کر بل پاس کیا ہے۔میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ بہت بار مودی جی اور شاہ جی نے بنگال میں ریلی کی ہے۔ اور دو ہزار چھبیس میں بھی ایسا ہی ہوگا۔
Source: Social Media
لندن سے ممبئی جانیوالے 250 سے زائد مسافر ترکی میں پھنس گئے
شفافیت اور جوابدہی کا بول بالا ہوگا:وقف بل منظور ہونے پر پی ایم مودی کا بیان
وقف بل منظور ہوتے ہی ایکشن میں سی ایم یوگی،ایک لاکھ سے زائد جائیدادوں پر کارروائی کا دیا حکم
نتیش کمار کو جھٹکے پر جھٹکا،اب تک 6 لیڈران نے پارٹی سے دیا استعفیٰ، غلام رسول بلیاوی بھی قطار میں
شادی کی 25 ویں سالگرہ کی تقریب میں شوہر کا انتقال
وقف ترمیمی بل :شرد پوار نے سب کو الجھا دیا,راجیہ سبھا سے غیر حاضر رہے، دو ممبران پارلیمنٹ بھی نہیں آئے
لندن سے ممبئی جانیوالے 250 سے زائد مسافر ترکی میں پھنس گئے
وقف بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی تیاریاں۔ کانگریس جلد ہی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی
وقف ترمیمی بل :شرد پوار نے سب کو الجھا دیا,راجیہ سبھا سے غیر حاضر رہے، دو ممبران پارلیمنٹ بھی نہیں آئے
مایاوتی نے کہا- ہم وقف ترمیمی بل سے متفق نہیں، غلط استعمال ہوا تو مسلمانوں کی حمایت کریں گے
اتر پردیش: شاہجہاں پور میں ’لاٹ صاحب کے جلوس‘ پر پولیس لاٹھی چارج، اناؤ میں پتھراؤ سے 3 پولیس اہلکار زخمی
ضلع اسپتال کے احاطے میں نومولود بچے کی لاش برآمد
جھارکھنڈ: گریڈیہہ میں ہولی جلوس کے دوران جھڑپ، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، کئی زخمی
مرادآباد: ہولی پر گلے لگانے سے انکار پر بی جے پی لیڈر کے دوست کو گولی مار دی، ویڈیو وائرل