National

وقف ترمیمی بل کے خلاف سپریم کورٹ پہنچے اویسی، بہار کے کانگریس ایم پی ڈاکٹر جاوید نے داخل کی عرضی

وقف ترمیمی بل کے خلاف سپریم کورٹ پہنچے اویسی، بہار کے کانگریس ایم پی ڈاکٹر جاوید نے داخل کی عرضی

لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے پاس ہوئے وقف ترمیمی بل کو ملک کے سب سے بڑی عدالت میں چیلنج دیا گیا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اورحیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے وقف ترمیمی بل کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ اسدالدین اویسی سے پہلے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹرمحمد جاوید نے وقف ترمیمی بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ ڈاکٹر محمد جاوید بہار کے کشن گنج سے کانگریس کے ایم پی ہیں۔ اس طرح سے ابھی تک وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں دو عرضی داخل کردی گئی ہے۔ راجیہ سبھا سے جمعرات کو بل پاس ہونے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے کہا تھا کہ ہم سپریم کورٹ جائیں گے۔ تمل ناڈو کی ڈی ایم کے نے بھی عرضی داخل کرنے کی بات کہی تھی۔ اب کانگریس رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وقف بل کے خلاف پہلی عرضی داخل کی ہے۔ قابل ذکرہے کہ کانگریس رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد جاوید لوک سبھا میں کانگریس پارٹی کے وہپ ہیں۔ ساتھ ہی وہ وقف ترمیمی بل 2024 پر جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) کے رکن تھے۔ کانگریس نے بل کومسلم طبقے کے ساتھ بھید بھاؤ والا بتایا وقف ترمیمی بل کے خلاف بہار کے کشن گنج کے کانگریس رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے عرضی میں قانون کو مسلم طبقے کے تئیں بھید بھاؤ والا اوران کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والا قرار دیا۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا کہ وقف بورڈ اورسنٹرل وقف کونسل کے ڈھانچے میں ترمیم کی جائے تاکہ وقف انتظامی اداروں میں غیر مسلم ارکان کو شامل کرنا لازمی بنایا جائے۔ ایسا کرنا مذہبی حکمرانی میں نامناسب مداخلت ہے۔ اس کے برعکس، ہندو مذہبی ٹرسٹ کا انتظام خصوصی طورپرہندومختلف ریاستی ایکٹ کے تحت کرتے ہیں۔ درخواست میں دلیل دی گئی ہے کہ یہ قانون آئین کے آرٹیکل 14 (مساوات کا حق)، 25 (مذہب پرعمل کرنے کی آزادی)، 26 (مذہبی امورکو چلانے کی آزادی)، 29 (اقلیتی حقوق) اور300 اے (جائیداد کا حق) کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ قبل ازیں جمعہ کے روز ہی کانگریس نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کے ذریعہ منظور کردہ وقف (ترمیمی) بل 2025 کی آئینی حیثیت کو “بہت جلد” سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments