International

واشنگٹن کا اوقیانوس میں روسی پرچم بردار بحری آئل ٹینکر ضبط کرنے کا اعلان

واشنگٹن کا اوقیانوس میں روسی پرچم بردار بحری آئل ٹینکر ضبط کرنے کا اعلان

دو ہفتوں سے زیادہ کی تلاش کے بعد امریکہ نے ایک روسی پرچم والا تیل کا بحری ٹینکر جس کا تعلق وینزویلا سے تھا، ضبط کر لیا۔ امریکی فوجی قیادت نے آج بدھ کو "ایکس" پر جاری بیان میں بتایا کہ وزارت انصاف، محکمہ داخلی سلامتی اور وزارت دفاع کے مشترکہ عمل سے انجام پانے والی اس کارروائی کی وجہ یہ ہے کہ ٹینکر نے امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی تھی۔ شمالی اوقیانوس میں یہ ضبطی کارروائی امریکی وفاقی عدالت کے جاری کردہ وارنٹ کے تحت کی گئی اور اس کا پتا امریکی کوسٹ گارڈ کی کشتی USCGC Monroe نے چلایا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے پابندی شدہ اور غیر قانونی تیل پر عائد امریکی محاصرہ پوری دنیا میں جاری ہے اور امریکہ غیر قانونی تیل کی ترسیل کرنے والی تمام "شیڈو شپنگ" پر قابو پانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ ہیگسیتھ نے واضح کیا کہ قانونی توانائی کی تجارت صرف امریکہ کی ہدایات کے مطابق ہو گی۔ روسی حکومت نے اس کارروائی پر اعتراض کیا۔ روسی وزارت نقل و حمل نے کہا کہ یہ ٹینکر 24 دسمبر کو عارضی طور پر روسی پرچم تلے چلنے کی اجازت حاصل کر چکا تھا۔ روسی بحریہ نے بھی اس علاقے میں ایک آبدوز اور جنگی جہاز بھیجا، حالانکہ امریکی حکام کے مطابق ان کی موجودگی کی حد اور اثرات واضح نہیں تھے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکی فوج نے کسی روسی پرچم والی کشتی پر قبضہ کیا۔ یہ ٹینکر جسے پہلے "بیلا-1" کہا جاتا تھا، امریکی بحری محاصرے سے بچنے میں کامیاب رہا تھا اور کوسٹ گارڈ کے اہل کاروں نے اس پر سوار ہونے کی کوشش ناکام بنائی تھی۔ بعد ازاں اسے روسی پرچم کے تحت "مارینیرہ" کے نام سے رجسٹر کیا گیا اور یہ وینزویلا کے خلاف امریکی دباؤ کی مہم کے دوران ہدف بننے والی تازہ ترین کشتی ہے۔ اسی دوران، امریکی کوسٹ گارڈ نے لاطینی امریکہ کے پانیوں میں وینزویلا سے تعلق رکھنے والے ایک اور ٹینکر کو بھی روک لیا، جبکہ امریکہ پابندی شدہ وینزویلا کی شپنگ پر بحری محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments