International

وہ سربراہان مملکت جنہیں امریکہ نے گرفتار کیا، نمایاں ترین صدام حسین اور آخری مادورو

وہ سربراہان مملکت جنہیں امریکہ نے گرفتار کیا، نمایاں ترین صدام حسین اور آخری مادورو

امریکہ نے تین جنوری ہفتے کے روز علی الصبح وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ یہ گرفتاری اس بڑے فوجی آپریشن کے دوران کی گئی جو وینزویلا کی سرزمین کے اندر انجام دیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’’ ٹروتھ سوشل ‘‘ کےذریعے اعلان کیا کہ صدر مادورو کو گرفتار کرنے کے بعد ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت امریکہ- وینزویلا تعلقات میں ایک بے مثال کشیدگی کی نمائندگی کر رہی ہے، خاص طور پر جبکہ واشنگٹن نے گزشتہ سالوں میں مادورو کی گرفتاری کا باعث بننے والی معلومات کے بدلے بڑے مالی انعامات کا اعلان کیا تھا۔ سال 2025 میں اس انعام کی رقم بڑھا کر 50 ملین ڈالر کر دیا گیا تھا۔ مادورو پر منشیات کی سمگلنگ کے نیٹ ورکس اور بین الاقوامی مجرمانہ تنظیموں کے ساتھ تعاون میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا۔ کاراکاس نے بارہا ان الزامات کی تردید کی ہے اور انہیں برسراقتدار نظام کو نشانہ بنانے والی سیاسی اور معاشی جنگ کا حصہ قرار دیا ہے۔ مادورو کی گرفتاری امریکی سیاست میں کوئی پہلی مثال نہیں ہے کیونکہ امریکہ اس سے قبل براہ راست یا بالواسطہ طور پر کئی سربراہان مملکت کو گرفتار کر چکا یا ان کا تختہ الٹ چکا ہے۔ نمایاں واقعات یہ ہیں۔ ۔ پانامہ کے صدر مینوئل نوریگا: امریکی افواج نے انہیں 1989 میں پانامہ پر حملے کے دوران گرفتار کیا تھا اور انہیں امریکی سرزمین پر منتقل کیا گیا جہاں ان پر منشیات کی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ سے متعلق الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ ۔ سربیا یا سابق یوگوسلاویہ کے صدر سلوبودان میلوسوچ: انہیں 2001 میں براہ راست امریکی سیاسی اور مالی دباؤ کے تحت گرفتار کیا گیا اور دی ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حوالے کر دیا گیا۔ ۔ عراق کے صدر صدام حسین: امریکی افواج نے انہیں 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد گرفتار کیا۔ انہیں بعد میں عراقی حکام کے حوالے کیا گیا جنہوں نے ان پر مقدمہ چلایا اور 2006 میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔ ۔ لائبیریا کے صدر چارلس ٹیلر: انہیں 2006 میں امریکہ کی براہ راست مدد سے گرفتار کیا گیا اور سیرا لیون کی خصوصی عدالت کے حوالے کر دیا گیا۔ انہیں پھر دی ہیگ منتقل کیا گیا جہاں انہیں طویل سالوں کی قید کی سزا سنائی گئی۔ ۔ ہونڈوراس کے صدر خوان اورلینڈو ہرنینڈز: ان کے ملک کے حکام نے انہیں 2022 میں گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کر دیا اور واشنگٹن نے ان پر امریکہ میں کوکین سمگل کرنے کی سازش اور مجرمانہ تنظیموں کے ساتھ لین دین کا الزام لگایا تھا۔ مادورو کی گرفتاری پر بین الاقوامی ردعمل ملے جلے ہیں جن میں اس آپریشن کو وینزویلا کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دے کر مذمت کرنے سے لے کر امریکی مداخلت کی قانونی حیثیت کی تحقیقات کے لیے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے تک کے مطالبات تک شامل ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments