International

’نیٹو کے فوجی افغانستان میں فرنٹ لائن پر نہیں لڑے‘، صدر ٹرمپ کے بیان پر غم و غصہ

’نیٹو کے فوجی افغانستان میں فرنٹ لائن پر نہیں لڑے‘، صدر ٹرمپ کے بیان پر غم و غصہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ ’نیٹو کے فوجیوں نے افغانستان میں فرنٹ لائن پر لڑائی نہیں لڑی‘ پر برطانوی حکومت کا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ایک برطانوی وزیر نے حکومت کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی صدر کا یہ دعویٰ کہ نیٹو کے فوجیوں نے افغانستان میں فرنٹ لائن پر لڑائی نہیں لڑی، ’بالکل غلط‘ ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انہوں ںے جمعے کو اس حوالے سے مزید کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر برطانیہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔‘ واضح رہے کہ جمعرات کو امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ بظاہر اس بات سے لاعلم نظر آئے کہ امریکہ پر 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد برطانیہ کے 457 فوجی افغانستان میں لڑتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ انٹرویو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ (نیٹو والے) کہتے ہیں کہ انہوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے تھے۔‘ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’اور انہوں نے فوجی بھیجے بھی، لیکن وہ تھوڑا پیچھے رہے، فرنٹ لائن سے ذرا دُور۔‘ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تجویز کو دہُراتے ہوئے کہا کہ ’اگر مستقبل میں امریکہ کوئی مدد مانگے تو نیٹو اُس کی مدد کے لیے نہ آئے۔‘ حقیقت یہ ہے کہ نائن الیون حملوں کے بعد برطانیہ اور کئی دیگر اتحادی ممالک نے افغانستان میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ برطانیہ کے علاوہ نیٹو کے دیگر اتحادی ممالک جیسے کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور ڈنمارک کے فوجی بھی اس جنگ میں ہلاک ہوئے۔ برطانوی وزیر برائے سوشل کیئر سٹیفن کنوک نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ’وزیرِاعظم کیئر سٹارمر یہ معاملہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے اٹھائیں گے۔‘

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments