تہران (12 مارچ ): ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اب تک منظر عام پر نہیں آئے ہیں جس کی وجہ سامنے آ گئی۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بعد متعلقہ فورم نے ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔ تاہم وہ اب تک منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔ ایسا کیوں ہے، اب اس کی وجہ سامنے آ گئی ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایران جنگ کے آغاز میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں زخمی ہوئے تھے اور انہیں ٹانگوں پر چوٹیں آئی تھیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ نے جنگ کے پہلے دن اسی حملے میں زخمی ہوئے تھے، جس میں ان کے والد اور طویل عرصہ تک سپریم لیڈر رہنے والے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلخانہ بھی شہید ہوئے تھے۔ امریکی اخبار نے اسرائیلی اور ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ زخمی ہونے کی وجہ سے مجتبیٰ خامنہ ای اب تک نہ تو کسی عوامی تقریب میں دکھائی دیے ہیں اور نہ ہی قوم سے ویڈیو خطاب کیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا بھی انہیں جانبازِ رمضان جنگ قرار دے رہا ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ جنگ میں زخمی ہوئے ہیں، ایران نے جاری تنازع کو رمضان وار کا نام دیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی خبریں میڈیا پر آئی تھیں۔ تاہم صدر مسعوز پزیشکیان اور دیگر حکام نے اس کی واضح تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل صحتمند اور خیریت سے ہیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ