International

نفرت کا مقابلہ کرنا مذہبی رہنماؤں کی ’اخلاقی ذمہ داری‘ ہے: سربراہ مسلم ورلڈ لیگ

نفرت کا مقابلہ کرنا مذہبی رہنماؤں کی ’اخلاقی ذمہ داری‘ ہے: سربراہ مسلم ورلڈ لیگ

نفرت انگیز بیان بازی کا مقابلہ کرنا مذہبی رہنماؤں کی "اخلاقی ذمہ داری" ہے، مسلم ورلڈ لیگ (اسلامی تعاون تنظیم) کے سیکریٹری جنرل محمد العیسیٰ نے بدھ کے روز عالمی اقتصادی فورم میں کہا۔ امن کے لیے بین المذاہب مکالمے میں پیش رفت کے عنوان سے منعقدہ ایک سیشن کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ ایسے بیانات کا مقابلہ کریں جو مذہب کے نام پر [جنگ] کو جائز قرار دیتے ہوں بالخصوض غیر منصفانہ جنگوں کی آگ بھڑکانے یا جائز حقوق سے انکار کرنے کے لیے ہتھیار کے طور پر مذہبی عبارات و متن کے استحصال کو بے نقاب کریں۔" انہوں نے مزید کہا، "ہر انسانی تباہی کی طرف پہلا قدم دوسروں سے انسانیت سوز سلوک ہے۔" اس سیشن کا مقصد اس کردار پر توجہ دینا تھا جو دنیا میں قیامِ امن اور غزہ امن منصوبے کے تناظر میں اعتماد کی بحالی کے لیے مذہبی رہنما ادا کر سکتے ہیں۔ اس منصوبے میں بین المذاہب مکالمے کے قیام کا عزم بھی شامل ہے۔ سربراہ اسلامی تعاون تنظیم نے "مسئلہ فلسطین کے پرامن حل" پر قراردادوں کی مسلسل منظوری پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، "جیسا کہ عموماً غزہ اور فلسطینیوں کے حقوق کے حوالے سے ہم المناک حالات دیکھتے اور سمجھتے ہیں تو اپنے مذہبی مؤقف کے لحاظ سے ہم نیویارک اعلامیے کو سراہتے ہیں جو گذشتہ ستمبر میں 'مسئلہ فلسطین کے پرامن حل' پر منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں جاری کیا گیا اور دو ریاستی حل کے نفاذ کو سراہتے ہیں جس کی صدارت سعودی عرب اور فرانس نے کی اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 142 ووٹوں سے اس کی حمایت کی۔" انہوں نے مذہبی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ "انصاف اور مفاہمت کی حمایت کریں" اور کہا، انہیں "حق اور منطق کے مقاملے میں طاقت یا نجی مفاد کے لیے اندھے تعصب کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔" انہوں نے مزید کہا، "ناانصافی اور جبر کے سامنے خاموشی غیر جانبداری نہیں بلکہ یہ اس جرم میں شریک ہونا ہے۔" مذہبی رہنماؤں کو "مشترکہ انسانیت اور ہمارے مشترکہ مقاصد کے اتحاد کی بنیاد پر مضبوط، پائیدار روابط بھی قائم کرنے چاہئیں۔" تنظیم کے سربراہ کے ہمراہ ربی اعلیٰ اور یورپی ربیوں کی کانفرنس کے صدر پنچاس گولڈشمٹ بھی تھے۔ ربی اعلیٰ نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ کس طرح "دوسروں سے غیر انسانی سلوک" تمام عالمی مذاہب کی تعلیمات سے متصادم ہے۔ انہوں نے مزید کہا، مذہب وہ "ذریعہ" نہیں ہونا چاہیے جسے جنگ اور نفرت انگیز بیان بازی کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جائے اور نفرت کا مقابلہ کرنے کے لیے بین المذاہب مکالمہ ضروری ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments