International

میانمار سے ٹیلی کام فراڈ میں ملوث 11 افراد کو چین میں پھانسی دے دی گئی

میانمار سے ٹیلی کام فراڈ میں ملوث 11 افراد کو چین میں پھانسی دے دی گئی

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق چین نے ٹیلی کام فراڈ آپریشنز سے منسلک 11 افراد کو جمعرات کو پھانسی دے دی، کیونکہ بیجنگ سرحد پار پھیلی ہوئی اس صنعت کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید سخت کر رہا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا، خصوصاً میانمار کے سرحدی علاقوں میں، ایسے فراڈ مراکز موجود ہیں جہاں دھوکے باز انٹرنیٹ صارفین کو جعلی رومانوی تعلقات اور کرپٹو کرنسی سرمایہ کاری کے جھانسے میں پھنساتے ہیں۔ ابتدا میں زیادہ تر چینی زبان بولنے والوں کو نشانہ بنانے والے یہ مجرمانہ گروہ اب متعدد زبانوں میں اپنے آپریشنز پھیلا چکے ہیں تاکہ دنیا بھر کے متاثرین سے رقم لوٹی جا سکے۔ ان فراڈ سرگرمیوں میں ملوث افراد میں بعض پیشہ ور دھوکے باز ہوتے ہیں، جبکہ بعض اوقات انسانی سمگلنگ کے شکار غیرملکی شہریوں کو زبردستی اس کام پر لگایا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں بیجنگ نے خطے کی حکومتوں کے ساتھ تعاون میں اضافہ کیا ہے تاکہ ان مراکز کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا سکے، اور ہزاروں افراد کو چین واپس بھیجا گیا ہے جہاں انہیں چین کے غیرشفاف عدالتی نظام میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق جمعرات کو پھانسی پانے والے 11 افراد کو ستمبر میں مشرقی چینی شہر وینژو کی ایک عدالت نے سزائے موت سنائی تھی، اور اسی عدالت نے سزاؤں پر عمل درآمد بھی کیا۔ شنہوا کے مطابق ان افراد کے جرائم میں ’دانستہ قتل، دانستہ جسمانی نقصان، غیرقانونی حراست، فراڈ اور جوئے کے اڈوں کا قیام‘ شامل تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سزائے موت کی توثیق بیجنگ میں سپریم پیپلز کورٹ نے کی، جس نے قرار دیا کہ سنہ 2015 کے بعد کیے گئے جرائم کے شواہد ’قطعی اور کافی‘ ہیں۔ پھانسی پانے والوں میں بدنام زمانہ ’مِنگ فیملی کرمنل گروہ‘ کے ’اہم ارکان‘ بھی شامل تھے، جن کی سرگرمیوں کے نتیجے میں 14 چینی شہری ہلاک اور ’کئی دیگر‘ زخمی ہوئے۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments