International

مظاہروں کے دوران دہشت گردوں نے مظاہرین کے سر قلم کیے:ایرانی وزیر خارجہ

مظاہروں کے دوران دہشت گردوں نے مظاہرین کے سر قلم کیے:ایرانی وزیر خارجہ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتیریس کو ایک پیغام بھیجا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ ہنگاموں میں "دہشت گردوں" نے لوگوں کے سر کاٹنے، محلے جلانے اور وسیع پیمانے پر ہتھیار استعمال کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ عراقچی نے اپنے پیغام میں کہا کہ " گذشتہ جمعرات اور جمعہ کے ایام میں ایران میں ایسے تشدد اور دہشت گردی کے واقعات دیکھنے میں آئے جو داعش کی طرز پر کیے گئے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ دہشت گردی کرنے والے عناصر اصل پرامن مظاہروں کو خراب کرنے والے ہیں"۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ "ان دہشت گردوں کی تمام دہشت گرد کارروائیوں" کی مذمت کرے۔ایسی سفاکیت کو کسی بہانے یا جواز کے تحت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا"۔ عراقچی نے امریکہ کے ایران میں انسانی حقوق کے حوالے سے بیانات کو بھی "گمراہ کن اور شرمناک" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیانات منظم مہم کا حصہ ہیں جو ان کے ملک کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کے لیے چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی بیرونی مداخلت کو سختی سے مسترد کرتا ہے ، انہوں عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ "ایران کی قومی خودمختاری اور اعلیٰ مفادات کا احترام کیا جائے"۔ گذشتہ بدھ کی شام عراقچی نے کہا کہ ملک کے تمام حصوں میں صورتحال مستحکم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ "دہشت گرد مظاہرین میں گھس کر ان اور سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کر رہے تھے تاکہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھائی جا سکے"۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل امریکہ کو اپنے ساتھ شامل کر کے ایران کے خلاف جنگ میں جھونکنا چاہتا ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ "ایران میں مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی رفتار کم ہو گئی ہے" اور اس وقت انہوں نے وضاحت کی کہ "فی الحال کسی بڑے پیمانے پر سزاؤں یا ہلاکتوں کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے"۔ ٹرمپ نے مداخلت کے حوالے سے صبر اور انتظار کی پوزیشن اپنائی تھی، حالانکہ اس سے قبل وہ فوجی آپشن کی دھمکی دے چکے تھے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments