ایران اور امریکا نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ دنوں میں مشاورت کر کے مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ مقرر کی جائے گی۔ عمان میں ہونے والے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریاک سے مذاکرات کی اچھی شروعات ہوئی ہے مسقط میں امریکا سے تبادلہ اچھا اور مذاکرات کا مثبت آغاز تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا سے جوہری مذاکرات جاری رکھنےکےلیے مفاہمت کی ہے مذاکرات بالواسطہ ہوئے اور دونوں فریقین کےخیالات، تحفظات ایک دوسرے تک پہنچائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کار مشاورت کیلئے اپنے ملک واپس جائیں گے اور بات چیت جاری رہےگی تاہم امریکا کے ساتھ "بے اعتمادی کی دیوار”کو عبور کرنا ہو گا۔ قبل ازیں عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا ہے کہ ایران نیک نیتی کے ساتھ واشنگٹن سے مذاکرات میں شریک ہو رہا ہے اور اپنے حقوق کا بھرپور دفاع کرے گا، وعدوں کا احترام ضروری ہے۔ امریکی وفد میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ عمان میں امریکا، ایران مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ممکن ہے یا نہیں۔ وائٹ ہاؤس ترجمان کا کہنا ہے کہ سفارت کاری ہی واحد راستہ نہیں، اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو صدر کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔ کیرولین لیویٹ نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ دنیا کی تاریخ کی سب سے طاقتور فوج کے کمانڈر ان چیف ہیں اور اپنے اختیارات استعمال کر سکتے ہیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ