International

مصر : وفات کے بعد جلد کے عطیے اور بافتوں کے قومی بینک کے قیام کی تجویز پر بحث

مصر : وفات کے بعد جلد کے عطیے اور بافتوں کے قومی بینک کے قیام کی تجویز پر بحث

مصری ایوانِ بالا (سینیٹ) کی رکن امیرہ صابر نے چیئرمین سینیٹ کے توسط سے وزیر صحت کو ایک تجویز پیش کی ہے۔ اس تجویز کا مقصد ایک "قومی انسانی بافتوں کے بینک" کا قیام اور وفات کے بعد بافتوں کے عطیہ کرنے کے نظام کو فعال بنانا ہے۔ اس تجویز کا مقصد انسانی بافتوں کی درآمد پر انحصار ختم کرنا ہے، جس پر فی کیس تقریباً 10 لاکھ مصری پاؤنڈز لاگت آتی ہے۔ اس کے بجائے ایک ایسا پائیدار قومی نظام لانا مقصود ہے جو سالانہ شدید جھلس جانے والے سیکڑوں بچوں کی جان بچانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ وضاحتی نوٹ میں "اہلِ مصر" فاؤنڈیشن کی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے، جس نے گذشتہ دسمبر میں محفوظ شدہ انسانی جلد کی پہلی کھیپ وصول کی تھی۔ نوٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ "عطیہ کردہ جلد" ایک زندگی بچانے والا طبی عمل ہے، خاص طور پر ان بچوں کے لیے جن کا جسم 40 فی صد سے زیادہ جھلس چکا ہو۔ مناسب جلد کی عدم دستیابی کی صورت میں ایسے بچوں میں اموات اور مستقل معذوری کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس تجویز نے عوامی حلقوں میں بحث اور اس کے طبی و قانونی اطلاق کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ "اہل مصر" ہسپتال کی سربراہ ڈاکٹر ہبہ السویدی نے ایک ٹی وی بیان میں کہا کہ جلد کا عطیہ کسی بھی دوسرے عضو کے عطیے سے مختلف نہیں ہے، کیونکہ جلد جسم کا سب سے بڑا عضو ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ طریقہ کار عالمی سطح پر رائج ہے، تاہم مصری معاشرے کے لیے یہ نیا اور حیران کن ہے۔ دوسری جانب قانونِ عامہ کے پروفیسر اور سابق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سمیر ابو طالب نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصری قانون سازی میں انسانی اعضاء کے عطیے پر کوئی پابندی نہیں ہے اور آنکھوں، جگر اور گردوں کے عطیے کا قانونی ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد کا عطیہ مصر کے صحت اور قانون سازی کے نظام میں ایک "جدید موضوع" ہے، جس پر احتیاط کے ساتھ کام کرنے اور معاشرتی قبولیت کے لیے مذہبی اداروں سے شرعی رائے لینا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دستوری اور قانونی طور پر جلد کو عطیہ کیے جانے والے اعضاء کی فہرست میں شامل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، کیونکہ عمومی قانونی قاعدہ انسانی زندگی کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے ہر اقدام کی حمایت کرتا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments