یمن میں آئینی اتحاد نے متحدہ عرب امارات کے بیان میں آنے والی باتوں سے متعلق متعدد حقائق واضح کیے ہیں۔ مشترکہ اتحادی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے مکلا بندرگاہ میں فوجی کارروائی سے متعلق اماراتی بیان پر مزید تفصیلات پیش کیں۔ ترجمان نے بتایا کہ دونوں بحری جہاز مروجہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بندرگاہ میں داخل ہوئے۔ انہوں نے یمنی حکومت اور نہ ہی اتحاد کی قیادت سے داخلے کی اجازت حاصل کی گئی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یمنی علاقائی پانیوں میں داخل ہونے سے قبل دونوں جہازوں نے ٹریکنگ اور شناختی نظام بھی بند کر دیا تھا۔ ترکی المالکی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے سابقہ بیان کی وضاحت میں کہا کہ جیسے ہی دونوں جہاز داخل ہوئے تو مکلا بندرگاہ کو بند کر دیا گیا اور تمام کارکنان اور مقامی ملازمین کو باہر نکال دیا گیا۔ جہازوں کی آمد کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ان میں اسّی سے زائد گاڑیاں موجود تھیں جبکہ اس کے علاوہ اسلحہ اور گولہ بارود سے لدے متعدد کنٹینرز بھی شامل تھے۔ انہوں نے اسی تناظر میں کہا کہ اس کے باوجود برادر اماراتی حکام نے سعودی عرب کو اطلاع دیے بغیر گاڑیوں اور کنٹینرز کو الریان اڈے منتقل کر دیا جہاں اماراتی اہلکاروں کی تعداد دس سے زیادہ نہیں تھی جبکہ اس کے ساتھ کشیدگی بڑھانے والی شریک فورسز بھی موجود تھیں۔ اتحاد کے ترجمان کے بیان کے مطابق اتحاد نے برادر اماراتی فریق کو آگاہ کیا کہ کشیدگی کو ہوا دینے اور تنازع کو بڑھانے والی یہ سرگرمیاں ناقابل قبول ہیں اور انہیں دوبارہ بندرگاہ میں واپس کیا جانا چاہیے۔ بعد ازاں گاڑیاں تو بندرگاہ میں واپس کر دی گئیں تاہم اسلحہ کے کنٹینرز الریان اڈے میں ہی رکھے گئے۔ اس دوران اتحاد ی قیادت کے پاس مصدقہ معلومات آئیں کہ یہ کنٹینرز وادی اور صحرائے حضرموت میں مختلف مقامات پر منتقل اور تقسیم کیے جانے والے ہیں جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے مزید کہا کہ آج فجر سے قبل اور شہریوں کے جانی نقصان یا عوامی املاک کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے اتحاد کی قیادت نے محدود فوجی کارروائی کی جو جنگ کے اصول کے مطابق اس انداز میں انجام دی گئی کہ بندرگاہ میں جان و مال اور تنصیبات کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ باقی ماندہ کنٹینرز تاحال الریان اڈے میں موجود ہیں۔ سعودی کابینہ نے اس سے قبل یمن میں آئینی حکومت کے حمایتی اتحاد کے کردار کو سراہا تھا جس کے تحت حضرموت اور المہرہ گورنریوں میں شہریوں کا تحفظ کیا گیا۔ یہ اقدامات یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد العلیمی کی درخواست پر کیے گئے تاکہ کشیدگی کم ہو اور امن و استحکام حاصل کیا جا سکے اور تنازع کے دائرے کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ کابینہ نے ان کوششوں کے انجام پر افسوس کا اظہار بھی کیا جن کے لیے سعودی عرب نے بھرپور کاوشیں کیں مگر ان کے جواب میں بلاجواز کشیدگی دیکھنے میں آئی جو یمن میں آئینی حکومت کے اتحاد کی بنیادوں کے خلاف ہے اور یمن کے امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بھی منافی ہے۔ ساتھ ہی یہ رویہ ان تمام وعدوں سے بھی ہم آہنگ نہیں جو متحدہ عرب امارات کی جانب سے سعودی عرب کو دیے گئے تھے۔
Source: social emdia
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ