International

محکمۂ دفاع کے باہر براہ راست کوریج کرنے پر اسرائیل نے سی این این ترکیہ کے دو صحافی گرفتار کر لیے

محکمۂ دفاع کے باہر براہ راست کوریج کرنے پر اسرائیل نے سی این این ترکیہ کے دو صحافی گرفتار کر لیے

اسرائیلی پولیس نے ترکیہ کے نشریاتی ادارے سی این این ترک سے تعلق رکھنے والے دو صحافیوں کو اُس وقت گرفتار کر لیا جب وہ اسرائیل کے محکمۂ دفاع (آئی ڈی ایف) کے ہیڈکوارٹر کے باہر براہِ راست نشریات کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق رپورٹر ایمرہ چکماک اور کیمرا مین حلیل قہرمان کو ایک حساس سکیورٹی تنصیب کی فلم بندی کے شبہے میں حراست میں لیا گیا۔ عرب نیوز کے مطابق یہ گرفتاری اُس وقت عمل میں آئی جب منگل کو ایران کی جانب سے تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے دیگر علاقوں پر ایک اور میزائل حملے کے بعد دونوں صحافی جائے وقوعہ کے قریب رپورٹنگ کر رہے تھے۔ ابتدائی اطلاعات اور آن لائن گردش کرنے والی ایک ویڈیو کے مطابق براہِ راست نشریات کے دوران دو افراد، جنہیں ممکنہ طور پر فوجی قرار دیا جا رہا ہے، نے رپورٹنگ ٹیم کے قریب آکر رپورٹر کا فون ضبط کر لیا۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاع موصول ہوئی تھی کہ دو افراد کیمرے کے ساتھ موجود ہیں اور مبینہ طور پر کسی غیرملکی میڈیا کے لیے براہِ راست نشریات کر رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق جب افسران نے سی این این ترک کی ٹیم سے شناخت طلب کی تو انہوں نے مبینہ طور پر تاریخ گزرے ہوئے پریس کارڈ دکھائے، جس کے بعد انہیں تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔ اسرائیل میں فوجی سنسر کی سخت پالیسی پہلے ہی حساس مقامات یا ایسی معلومات کی اشاعت پر پابندی عائد کرتی ہے جو قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ سمجھی جائے۔ غزہ جنگ کے آغاز کے بعد ان پابندیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے، جن میں ڈیوٹی پر موجود فوجیوں اور اسٹریٹجک تنصیبات کی فلم بندی پر سخت قواعد شامل ہیں۔ ترکی کے ڈائریکٹوریٹ آف کمیونیکیشنز کے سربراہ برہان الدین دوران نے گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’صحافت پر حملہ‘ قرار دیا اور کہا کہ انقرہ صحافیوں کی رہائی کے لیے کام کر رہا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments