ایک 13 سالہ فلسطینی اس وقت جاں بحق ہوگیا جب مغربی کنارے میں قابض فوج کی طرف سے بچھائی گئی بارودی سرنگ پر اس کا پاؤں آگیا۔ اسرائیلی فوج نے اپنے قبضے کو قائم رکھے کے لیے بنائے فوجی کیمپوں کے گردو پیش میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔ یہی بارودی سرنگ فلسطینی شہرہوں کی جان اور جسم کے لیے خطرہ بنی رہتی ہیں۔ فلسطینی بچے کی بارودی سرنگ کی وجہ سے ہلاکت کا یہ واقعہ مغربی کنارے میں منگل کے روز پیش آیا ہے اور اسے ہلال احمر نے بھی رپورٹ کیا ہے۔ ہلال احمر کے مطابق اس کے عملے کے ارکان نے بارودی سرنگ کی وجہ سے ہلاک ہونے والے اس بچے کی لاش موقع سے حاصل کرلی ہے۔ ہلال احمر کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ واقعہ شمالی وادی اردن میں جیفتیک میں پیش آیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ماتحت ادارے کوگیٹ کے ایک ذریعے نے بھی اس وقعے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ بچے کا نام محمد معلوم ہوا ہے۔ اس سے پہلے اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ دھماکہ خیز مواد سے کھیلنے کی وجہ سے تین بچے زخمی ہوئے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے ان بچوں کی عمر کا تعین نہیں کیا تھا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے اس علاقے میں داخلہ ممنوع قرار دے رکھا ہے۔ کیونکہ یہ ہلاکت خیز بارود سے بھرا ہوا ہے۔ خیال رہے یہ علاقہ جنین شہر کی باونڈری سے قریب ہے۔ جیفتیک ولیج کونسل کے سربراہ احمد نے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ ان تین بچوں میں سے سب سے بڑے کی عمر سولہ سال ہے۔ یہ بارودی سرنگ سے ٹکرا گئے تھے۔ اسرائیل نے اس علاقے پر 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ