International

مغربی کنارے میں چھاپے اور گرفتاریاں... اسرائیل نے ایمبولینس روک لی

مغربی کنارے میں چھاپے اور گرفتاریاں... اسرائیل نے ایمبولینس روک لی

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک بار پھر مختلف علاقوں میں چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ دیکھنے میں آیا ہے۔ آج جمعہ کے روز اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے کے مختلف حصوں میں تلاشی کی وسیع مہم کے دوران متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔ الخلیل شہر اور دیر سامت اور السموع کے قصبوں سے تین شہریوں کو ان کے گھروں پر چھاپا مارنے اور تلاشی لینے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ ا اسرائیلی افواج نے دورا اور حلحول کے قصبوں پر بھی دھاوا بولا اور کئی گھروں کی تلاشی لی، تاہم مزید کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ چھاپوں کا یہ سلسلہ طولکرم گورنری تک پھیل گیا جہاں اسرائیلی افواج عنبتا اور کفر اللبد کے قصبوں میں داخل ہوئیں۔ کفر اللبد میں افواج کے پیچھے ہٹنے سے قبل ایک دھماکا خیز مواد پھٹنے کا واقعہ پیش آیا، جبکہ نور شمس کیمپ میں گھروں کی مسماری کا عمل بیک وقت جاری رہا۔ علاوہ ازیں، اسرائیلی افواج نے شہر جنین کے شہید خلیل سلیمان سرکاری ہسپتال کے قریب ایک مریض کو منتقل کرنے والی ہلالِ احمرِ فلسطین کی ایمبولینس کو بھی روک لیا۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 میں غزہ کی پٹی میں جنگ چھڑنے کے بعد سے مغربی کنارے میں اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے سیکڑوں نئی بستیوں کی تعمیر کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ گذشتہ اگست میں اسرائیلی سول ایڈمنسٹریشن نے "E-1" نامی منصوبے کی منظوری دی تھی جس کے تحت مشرقی بیت المقدس (یروشلم) کے مشرق میں 12 مربع کلومیٹر کے رقبے پر نئی بستیاں تعمیر کی جائیں گی۔ اسی دوران 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں میں بھی شدت آئی ہے۔ یاد رہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیلی بستیاں غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں، خواہ وہ اسرائیلی حکومت کی منظور شدہ ہوں یا غیر قانونی طور پر قائم کی گئی ہوں۔ اسرائیلی سرکاری ذرائع کے مطابق مشرقی بیت المقدس میں 3 لاکھ 70 ہزار فلسطینی اور 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد اسرائیلی آباد کار مقیم ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments