International

مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات تنازع کے بگڑنے کا پیش خیمہ ہیں: شاہ اردن

مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات تنازع کے بگڑنے کا پیش خیمہ ہیں: شاہ اردن

اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم نے مغربی کنارے میں زمینوں کی رجسٹریشن سے متعلق نئے اسرائیلی اقدامات کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرتے ہیں اور فلسطینی اسرائیلی تنازع کے بگڑنے کا پیش خیمہ ہیں۔ دیوانِ شاہی سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ عبداللہ دوم نے لندن میں سابق برطانوی حکام اور برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا ہے کہ اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات، جو بستیوں کو مستحکم کرنے اور زمینوں پر خودمختاری مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں، امن کی کوششوں کو کمزور کرتے ہیں اور تنازع میں شدت آنے کا خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ دوسری جانب اردن کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اسرائیلی حکومت کے اقدامات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیل کی کوئی خودمختاری موجود نہیں ہے۔ بیان میں وزارت کے ترجمان فواد المجالی کے حوالے سے بتایا گیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے تمام اقدامات اور مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی اور مسیحی مقدسات کی خلاف ورزیاں غیر قانونی اور غیر آئینی ہیں۔ فواد المجالی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور قابض قوت اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں خطرناک کشیدگی پیدا کرنے والے غیر قانونی و یکطرفہ اقدامات روکنے پر مجبور کرے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق پورے کیے جائیں۔ فلسطینی عوام کا سرفہرست حق یہ ہے کہ ان کی اپنی قومی سرزمین پر ان کی ایک ایک آزاد ریاست قائم ہو۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جو علاقے میں سلامتی اور استحکام کی ضمانت دینے والے منصفانہ اور جامع امن کے حصول کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یاد رہے یہودی آباد کاروں کے لیے زمین کی خریداری میں سہولت فراہم کرنے والے اقدامات کی منظوری کے ایک ہفتے بعد اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے اتوار کو 1967 کے قبضے کے بعد پہلی بار مغربی کنارے میں زمین کی ملکیت کی رجسٹریشن اور تصفیہ کے عمل کو شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدامات اسرائیلی حکام کو بعض مذہبی مقامات کا انتظام اس صورت میں بھی سنبھالنے کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے زیر کنٹرول علاقوں میں واقع ہیں۔ 1967 کے بعد سے دائیں اور بائیں بازو کی تمام اسرائیلی حکومتوں کے دور میں بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رہا ہے اور موجودہ انتظامیہ کے دور میں اس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر 7 اکتوبر 2023 کو غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر میں مزید تیزی لائی گئی ہے۔ مشرقی بیت المقدس کے علاوہ مغربی کنارے کے مختلف حصوں میں 30 لاکھ فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ 5 لاکھ سے زیادہ اسرائیلی ایسی بستیوں اور چوکیوں میں رہتے ہیں جنہیں اقوام متحدہ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments