لیبیا کے دار الحکومت طرابلس کے جنوب مغرب میں واقع شہر بنی ولید میں آج جمعے کے روز سیف الاسلام قذافی کی تدفین کر دی گئی۔ ملک کے سابق سربراہ معمر قذافی کے بیٹے کو منگل کے روز زنتان شہر میں ان کے گھر پر ہونے والے حملے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ بنی ولید کے سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ تدفین میں لوگوں کی شرکت صرف خاندان کے افراد اور قذاذفہ اور ورفلہ قبائل کے چند مخصوص عمائدین تک محدود رہے گی۔ اس سے قبل سیف الاسلام کی میت سخت سکیورٹی میں بنی ولید پہنچائی گئی جو دارالحکومت سے تقریباً 180 کلومیٹر دور واقع ہے۔ شہر میں داخلے کے وقت سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے، جن میں سیف الاسلام کی تصاویر یا کسی بھی متعلقہ نعرے کے اٹھانے پر پابندی تھی، جبکہ عوامی سطح پر غم و غصے کے اظہار سے بھی منع کیا گیا تھا۔ تحقیقاتی کمیٹی کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سیف الاسلام قذافی کو 19 گولیاں ماری گئیں، جن میں سے ایک ان کے سر میں لگی۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ گھر کے کیمرے فعال تھے اور زنتان سے باہر ایک موبائل فون سے منسلک تھے۔ ایک اہم انکشاف یہ بھی سامنے آیا کہ حملے سے محض ڈیڑھ گھنٹہ قبل ان کی سکیورٹی پر مامور گارڈز وہاں سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔ سیف الاسلام کی سیاسی ٹیم کے سربراہ، عبداللہ عثمان نے کہا کہ ہمیں لیبیائی عدلیہ پر پورا اعتماد ہے کہ وہ مجرموں تک پہنچنے اور اس جرم کے پسِ پردہ محرکات کو بے نقاب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مقامی عدلیہ کسی دباؤ کا شکار ہوئی، تو پھر عالمی تحقیقات کا سوچا جا سکتا ہے البتہ سیف الاسلام اپنی زندگی میں عالمی عدالت کے بجائے ہمیشہ لیبیائی عدلیہ پر یقین رکھتے تھے۔ عثمان کے مطابق 2021 کے انتخابات روکنے والے عناصر ہی سیف الاسلام کو منظر نامے سے ہٹانے کے خواہش مند تھے کیونکہ وہ ان کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت سے خوف زدہ تھے۔ دوسری جانب سیف الاسلام کی قانونی ٹیم نے واضح کیا کہ عدالتی تحقیقات کے بغیر کسی بھی الزام کی کوئی حیثیت نہیں اور کرنل العجمی کو اس واقعے سے جوڑنے کی کوششیں بے بنیاد ہیں۔ وزیر داخلہ عماد الطرابلسی نے پراسیکیوٹر جنرل کے ساتھ مکمل تعاون اور واقعے کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ بنی ولید جہاں کی آبادی ایک لاکھ کے قریب ہے، ورفلہ قبیلے کا گڑھ مانا جاتا ہے جو آج بھی معمر قذافی کے دور کی یادیں تازہ رکھے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ سیف الاسلام کے قتل کے بعد اب معمر قذافی کی سات اولاد میں سے صرف چار (محمد، الساعدی، ہنیبال اور بیٹی عائشہ) اپنی والدہ کے ہمراہ حیات ہیں اور وہ سب لیبیا سے باہر مقیم ہیں۔
Source: Social Media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ