برطانیہ میں سابق وزیرِاعظم ونسٹن چرچل کے مجسمے پر فلسطین کے حق میں نعرے اور تحریریں لکھنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ 38 سالہ شخص کو نسلی بنیادوں پر مجرمانہ نقصان پہنچانے کے شبے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وسطی لندن کے علاقے ’پارلیمنٹ سکوئر‘ میں قائم چرچل کے مجسمے پر رات کے وقت سرخ رنگ سے نعرے لکھے گئے تھے۔ میٹرو پولیٹین پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا ہے کہ ’اطلاع ملنے کے دو منٹ کے اندر افسران موقع پر پہنچ گئے تھے۔ مجسمے پر سابق برطانوی رہنما کو ’صہیونی جنگی مجرم‘ قرار دینے کے ساتھ ساتھ ’فری فلسطین‘ اور ’نسل کشی بند کرو‘ جیسے نعرے بھی تحریر کیے گئے تھے۔ واقعے کے بعد صفائی ستھرائی کے عملے نے فوری طور پر مجسمے سے نعرے مٹانے کا کام شروع کر دیا۔ گریٹر لندن اتھارٹی نے اس عمل کو تخریب کاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’نعروں کو جلد از جلد ہٹایا جا رہا ہے۔‘ وزیراعظم کیئر سٹامر کے دفتر ’ڈاؤن سٹریٹ 10‘ نے اس واقعے کو ’انتہائی قابلِ نفرت‘ قرار دیتے ہوئے پولیس کی کارروائی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ’چرچل ایک عظیم برطانوی رہنما تھے اور ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔‘ دوسری جانب ایک ڈچ کارکن اولیکس آؤٹس نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں اس اقدام کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ پیغام فلسطینی قیدیوں کے حامی گروپ ’پرزنرز فار فلسطین‘ کی جانب سے شیئر کیا گیا۔ پیغام میں کہا گیا کہ اگر یہ ویڈیو دیکھی جا رہی ہے تو امکان ہے کہ وہ لندن کی کسی جیل میں موجود ہوں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ