لندن : برطانوی عدالت نے 12سالہ بچی کے اغوا اور زیادتی کے الزام میں افغان سیاسی پناہ گزین کو مجرم قرار دے دیا۔ برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق وارک کراؤن کورٹ میں احمد ملا خیل پر زیادتی، اغوا اور نازیبا ویڈیو بنانے کا الزام ثابت ہونے پر جیوری نے متفقہ طور پر مجرم قرار دیا ہے۔ مجرم احمد ملا خیل نے بچی سے زیادتی اور ویڈیو بنانے کے جرم کا اعتراف بھی کیا، پولیس کو دیئے گئے اعترافی بیان میں اس کا کہنا تھا کہ مجھے لگا کہ لڑکی 19سال کی ہے۔ برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق مجرم احمد ملا خیل زیادتی سے4ماہ قبل کشتی کے ذریعےبرطانیہ آیا تھا اس نے گزشتہ سال جولائی میں مذکورہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ واقعےکے بعد وارک کے علاقے میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے، احمد ملا خیل نے ہوم آفس کو بتایا کہ وہ افغانستان میں مشکلات کا شکار تھا۔ ملا خیل آئندہ ماہ سزا سنائے جانے تک قید میں رہے گا، جج کرسٹینا مونٹگمری کے سی نے ریمارکس دیے کہ ملا خیل کو سزا کے اختتام پر ملک بدر کردیا جائے گا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق کیس میں ملوث افراد کی قومیت اور امیگریشن کی حیثیت بھی ظاہر کی گئی ہے۔ ملزم کے ساتھ مقدمے میں شامل دوسرے شخص، 24 سالہ محمد کبیر کو اسی روز متاثرہ بچی کے ساتھ پہلے پیش آنے والے واقعے کے سلسلے میں بچے کو لے جانے کی کوشش اور جنسی جرم کے ارادے سے اقدام اور دانستہ گلا گھونٹنے کے الزامات سے بری کر دیا گیا۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ