ذرائع نے آج پیر کے روز بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کی ایک خصوصی فورس غزہ کی پٹی کے شہر خان یونس کے وسط میں داخل ہو گئی ہے تا کہ اسرائیلی قیدیوں کو نکالنے کا مشن انجام دے سکے۔ تاہم ذرائع نے واضح کیا کہ "اس کارروائی کے دوران کوئی اسرائیلی یرغمالی رہا نہیں کرایا جا سکا"۔ ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ یہ خصوصی فورس خواتین کا لباس پہن کر اور پناہ گزینوں کے بیگ اٹھائے ہوئے داخل ہوئی۔ اس نے القسام بریگیڈز کے ایک ذمے دار کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جس کے بارے میں اطلاع ملی تھی کہ وہ ممکنہ طور پر کچھ قیدیوں کے ہمراہ سرنگوں سے باہر نکلا ہے۔ بعد ازاں یہ واضح ہوا کہ وہاں کوئی قیدی موجود نہیں، تو فورس کارروائی کے بعد واپس چلی گئی، جب کہ اس کے نتائج پوری طرح واضح نہیں ہو سکے۔ اسی دوران ایک اسرائیلی ذریعے نے بتایا کہ "اس کارروائی کا مقصد القسام بریگیڈزکے ایک رہنما کو اغوا کرنا اور ساتھ ہی قیدیوں کو نکالنا تھا۔" دوسری طرف، اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ اسرائیلی افواج غزہ کے تمام علاقوں میں "عربات جدعون" کے نام سے آپریشن انجام دے رہی ہیں، تاہم ترجمان نے خان یونس کی اس مخصوص کارروائی کا ذکر نہیں کیا۔ "العربیہ/الحدث" کے نمائندے نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں کی ایک نئی لہر خان یونس کے مختلف علاقوں کو لپیٹ میں لے رہی ہے۔ نمائندے کے مطابق اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے دو اور جنگی طیاروں نے ایک حملہ کیا، جب کہ مشرقی خان یونس پر شدید فائرنگ بھی کی گئی۔ اس کے علاوہ، ایک فضائی حملے میں جنوبی غزہ میں ناصر ہسپتال کے قریب ایک پناہ گاہ اسکول کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ زمینی صورت حال ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس کی زمینی فورسز نے شمالی اور جنوبی غزہ کے مختلف علاقوں میں "عربات جدعون" کے نام سے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ اسرائیلی دفاعی ذرائع نے بتایا کہ پانچ انفنٹری اور بکتر بند بریگیڈز اس کارروائی میں شریک ہیں، جس کا مقصد غزہ کے کچھ حصوں پر دوبارہ قبضہ کرنا اور ان علاقوں کو مکمل طور پر زمین کے برابر کرنا ہے۔ اتوار کو ہی اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ غزہ میں "ایک زبردست عسکری معرکہ" شروع ہو چکا ہے، اور اسرائیلی افواج فلسطینی علاقے میں داخل ہو چکی ہیں۔ انھوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر جاری کردہ وڈیو میں کہا "ہم پوری قوت سے غزہ میں داخل ہو رہے ہیں تاکہ جنگ کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔" اسرائیل اس وقت غزہ کی پٹی میں حماس پر عسکری دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مذاکرات کی میز پر اسے مزید رعائتیں دینے پر مجبور کیا جا سکے۔ یہ بات برطانوی خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔ ادھر حماس کی جانب سے اس شرط پر اصرار کیا جا رہا ہے کہ تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے مکمل جنگ بندی اور امداد کی فراہمی کی ضمانت دی جائے۔ ابھی تک اسرائیلی فوج کے اندازوں کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں تقریباً 58 اسرائیلی قیدی موجود ہیں، جن میں سے 24 زندہ ہیں۔
Source: Social Media
’آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا‘: پرتگال میں انڈین سفارتخانے کا بینرز آویزاں
خان یونس کو خالی کرنے کاحکم، رفح میں سرنگ کا راستہ تباہ، غزہ پر اسرائیلی کارروائی میں شدت
قیدیوں کی بازیابی کے لیے ... اسرائیلی فوجی زنانہ لباس میں خان یونس میں داخل
مصری فضائیہ کا طیارہ بحیرہ روم میں گر کر تباہ، پائلٹ جاں بحق
جدہ میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ، 46 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ
غزہ: گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فوجی حملوں میں 136 فلسطینی شہید
خان یونس کو خالی کرنے کاحکم، رفح میں سرنگ کا راستہ تباہ، غزہ پر اسرائیلی کارروائی میں شدت
ایمنیسٹی انٹرنیشنل کو ناپسندیدہ تنظیم قرار دے کر روس نے پابندی عائد کر دی
غزہ میں فوجی آپریشن میں توسیع کے بعد امریکی نائب صدر کا دورہ اسرائیل منسوخ
غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر سعودی عرب کی جانب سے سخت ترین الفاظ میں مذمت
چیچن رہنما رمضان قادروف کے استعفے اور جانشین سے متعلق اہم انکشاف
سوڈان کے آرمی چیف نے ملک کا نیا وزیراعظم مقرر کر دیا
جنگ بندی اور کشمیر پر بیان تک صدر ٹرمپ نے ایک خیر خواہ دوست کا کردار ادا کیا: پاکستان
یقین ہے روس اور یوکرین سیز فائر کیلئے فوری بات چیت شروع کردیں گے، صدر ٹرمپ