خلیج تعاون کونسل(جی سی سی) کی وزارتی کونسل نے کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے خلیجی ریاستوں کے حق کی توثیق کی ہے۔ جی سی سی کی وزارتی کونسل کا 50 واں غیرمعمولی اجلاس وڈیو لنک کے ذریعے بحرینی وزیرخارجہ اور کونسل کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹرعبداللطیف الزیانی کی زیر صدارت ہوا ہے۔ اجلاس میں سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ، کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے شرکت کی۔ امارات، بحرین، سعودی عرب، عمان، قطر اور کویت پر سنیچر 28 فروری کو شروع ہونے والے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں ایرانی حملوں سے شہری تنصیبات اور رہائشی علاقوں پر ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا گیا۔ خطے میں سلامتی اور امن کے حصول کے لیے جاری کوششوں کو مربوط کرنے کے لیے طریقہ کار اور اقدامات پر بھی بات کی۔ وزارتی کونسل نے اردن سمیت جی سی سی ممالک کو نشانہ بنانے والے ان گھناونے ایرانی حملوں کی سخت مذمت کی جو ان ملکوں کی خودمختاری اور ہمسائیگی کے اصولوں، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ کونسل نے جی سی سی ممالک کے درمیان مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور ان حملوں کے خلاف متحدہ موقف اپنانے پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی کہ رکن ملکوں کی سلامتی ناقابل تقسیم ہے۔ کسی بھی رکن ریاست پر کوئی بھی حملہ جی سی سی کی تمام ریاستوں پر براہ راست حملہ تصور ہوگا۔ کونسل نے رکن ممالک کی مسلح افواج اور فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی اور تیاری کی بھی تعریف کی جنہوں نے اعلی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ میزائل اورڈرون حملوں کا کامیابی سے مقابلہ اور ان کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ