International

کشیدہ سفارتی تعلقات کے دوران چین واپس جانے والے آخری پانڈا جوڑے کو جاپانیوں کا الوداع

کشیدہ سفارتی تعلقات کے دوران چین واپس جانے والے آخری پانڈا جوڑے کو جاپانیوں کا الوداع

جاپان میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے ملک کے آخری پانڈا کے جوڑے کو چین جانے سے قبل الوداع کہنے آئی۔ نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق چین اور جاپان کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہیں اور اس دوران اتوار کو یہ واقعہ اہمیت اختیار کر گیا۔ اختتام ہفتہ اپنے مداحوں سے اس ’الوداعی ملاقات‘ کے بعد جڑواں پانڈا ’ژیاؤ ژیاؤ‘ اور ’لی لی‘ منگل کو ٹوکیو کے یوئنو چڑیا گھر سے روانہ کیے جائیں گے۔ یہ دونوں پانڈا جاپان کے دارالحکومت میں پیدا ہوئے تھے تاہم ان کی ملکیت چین نے اپنے پاس رکھی تھی جو بیجنگ کی ’پانڈا ڈپلومیسی‘ کا اصول قرار دیا جاتا ہے۔ چین میں پانڈا کو قومی علامت اور خیرسگالی کے سفیروں کے طور پر رکھا جاتا ہے اور ایسے ملکوں کو بھیجا جاتا ہے جن کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی خواہش ہوتی ہے۔ پانڈا جوڑی کے چین روانہ ہونے کے بعد 50 برسوں میں یہ پہلا موقع ہوگا جب جاپان میں کوئی بھی پانڈا موجود نہیں ہوگا۔ ایشیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں کے درمیان سفارتی تعلقات برسوں بعد انتہائی کم تر سطح پر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جب جاپانی شہریوں نے پانڈا کو الوداع کہنے کے لیے چڑیا گھر کا رُخ کیا تو اُن کے ذہن میں سیاسی معاملات بھی تھے۔ چڑیا گھر میں پانڈا کو اپنی اہلیہ کے ہمراہ دیکھنے آںے والے جاپانی شہری شوکن اکیدا نے سی این این کو بتایا کہ ’میں بہت اُفسردہ ہوں۔ ہم ہمیشہ کہتے تھے کہ یہاں پانڈا ہیں جن کو کسی دن دیکھنے جائیں گے، اور اب یہ ہو گیا ہے۔ کاش میں عموما یہاں آتا رہتا۔‘ پانڈا کو دیکھنے کے لیے آنے والوں کی قطاریں لمبی ہونے لگیں تو چڑیا گھر کی انتظامیہ نے لاٹری سسٹم کے ذریعے وزٹرز کو ٹکٹس دینے کا فیصلہ کیا۔ پانڈا کو دیکھنے آںے والی ایک اور جاپانی خاتون یوکی کیومیا بھی اس قطار میں تھیں۔ انہوں نے گزشتہ برس دسمبر کے اوائل میں لاٹری ٹکٹ جیتا تھا اور وہ گزشتہ ہفتے دوبارہ پانڈا کو دیکھنے آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ انتہائی مایوس کُن ہے۔ افسوس ہوتا ہے کہ اتنے معصوم اور خوبصورت جانور کو سفارتکاری میں ٹرمپ کارڈ یا ٹول کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔‘ چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق جڑواں پانڈا کی شخصیت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ پانڈا ژیاؤ ژیاؤ کچھ دبا ہوا سا ہے جبکہ اُس کی بہن لی لی بے خوف ہے اور تیزی سے تبدیل ہوتی چیزوں کو قبول کرتی ہے۔ جاپان نے پہلی بار سنہ 1972 میں چین سے آنے والے پانڈا کو اُس وقت خوش آمدید کہا تھا جب دونوں ملکوں میں سفارتی تعلقات معمول پر آئے تھے۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments