International

کرائسٹ چرچ مساجد حملے : 51 مسلمانوں کا قاتل بیان سے مکر گیا، سزا کے خلاف اپیل دائر

کرائسٹ چرچ مساجد حملے : 51 مسلمانوں کا قاتل بیان سے مکر گیا، سزا کے خلاف اپیل دائر

کرائسٹ چرچ : کرائسٹ چرچ حملے کے مجرم نے نیوزی لینڈ کی عدالت میں سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی اور کہا جرم قبول کرتے وقت اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں دوہزار انیس میں ہونے والے ہولناک حملے میں اکیاون نمازیوں کو شہید کرنے والے سفید فام انتہا پسند برینٹن ٹیرنٹ نے اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ آسٹریلوی نژاد مجرم نے دعویٰ کیا ہے کہ جرم قبول کرتے وقت اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی، اس لیے وہ جرم قبول کرنے سے انکار کرتا ہے، اس کی سزا پر نظرثانی کی جائے۔ عدالتی دستاویزات میں بتایا گیا کہ ٹیرنٹ اس وقت آکلینڈ جیل کے انتہائی سخت سکیورٹی یونٹ میں قید ہے جہاں اسے دیگر قیدیوں یا افراد سے بہت محدود رابطہ حاصل ہے۔۔ واضح رہے کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں ہونے والےحملے نیوزی لینڈ کی تاریخ میں دہشت گردی کا سب سے بڑا واقعہ تھا۔ برینٹن ٹیرنٹ نے مارچ 2019 میں کرائسٹ چرچ کی النور اور لن ووڈ مساجد میں فائرنگ کی تھی، حملے میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت 51 مسلمان شہید ہوئے تھے۔ اپیل کی سماعت ویلنگٹن میں نیوزی لینڈ کی کورٹ آف اپیل میں تین ججوں پر مشتمل بینچ نے کی، متاثرہ خاندانوں کو عدالتی کارروائی ویڈیو لنک کے ذریعے دکھائی جا رہی ہے، تاہم فیصلے کا اعلان بعد میں متوقع ہے۔ خیال رہے حملے کے بعد اس وقت کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے اسلحہ قوانین میں فوری اور سخت اصلاحات نافذ کی تھیں جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انتہا پسند مواد کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے تھے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments