امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر چک شومر کی ایران اسرائیل کشیدگی پر گفتگو کے دوران زبان پھسل گئی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر وضاحت دینا پڑی۔ رپورٹس کے مطابق سینیٹر چک شومر ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر اظہارِ خیال کر رہے تھے کہ اسی دوران انہوں نے کہا کہ کوئی بھی اسرائیل کو نیوکلیئر ریاست کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتا۔ اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مطلب ایران تھا، نہ کہ اسرائیل۔ امریکی سینیٹ میں اقلیتی لیڈر نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال دراصل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس کمیٹی کو دی گئی بریفنگ کے بعد ارکانِ سینیٹ کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ چک شومر نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس جنگ سے متعلق واضح حکمتِ عملی یا جامع منصوبہ بندی موجود نہیں ہے، جس کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتِ حال بڑھ رہی ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ