International

خواتین و بچوں کی ڈیپ فیک روکنے کیلئے ایلون مسک کا اقدام یورپی ممالک نے ناکافی قرار دیدیا

خواتین و بچوں کی ڈیپ فیک روکنے کیلئے ایلون مسک کا اقدام یورپی ممالک نے ناکافی قرار دیدیا

ایلون مسک کے اے آئی چیٹ بوٹ گروک نے خواتین اور بچوں کی ڈیپ فیک سے نامناسب تصاویر بنائے جانے پر شدید تنقید کے بعد اپنے امیج بنانے اور ایڈیٹنگ کے فیچر کو محدود کرتے ہوئے غیر ادا شدہ (فری) صارفین کے لیے بند کر دیا، اسکے باوجود یورپی ممالک کے تحفظات برقرار ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیچر کے ذریعے آن لائن تصاویر میں رد و بدل کرتے ہوئے انہیں نامناسب و غیراخلاقی بنایا جاسکتا تھا، تاہم اس پر مختلف ممالک کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا اور ایلون مسک کو جرمانوں کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ بعدازاں اپنے بیان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صارفین کو جواب دیتے ہوئے گروک نے کہا کہ ’تصویر بنانے اور ایڈٹ کرنے کا ٹول صرف ادائیگی کرنے والے سبسکرائبرز کے لیے محدود کر دیا گیا ہے۔ ان فیچرز کو استعمال کرنے کے لیے سبسکرپشن لینا ہوگی۔‘ اس فیصلے کے بعد گروک کے کئی صارفین اب تصاویر بنانے یا ایڈٹ کرنے کے قابل نہیں رہے۔ ادائیگی کرنے والے صارفین کو ان سہولتوں کے لیے کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات اور ذاتی معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کے دفتر نے اس اقدام کو متاثرین کے لیے ’توہین آمیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلے کا حل نہیں۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اقدام ایک ایسے اے آئی فیچر کو، جو غیر قانونی تصاویر بنانے کی اجازت دیتا ہے، ایک پریمیم سروس میں تبدیل کر رہا ہے۔ یہ خواتین سے نفرت اور جنسی تشدد کے متاثرین کی توہین ہے۔‘ یورپی یونین کے انتظامی ادارے نے کہا کہ وہ حالیہ تبدیلیوں کا نوٹس لے رہے ہیں۔ تاہم یورپی یونین کے ڈیجیٹل امور کے ترجمان تھامس ریگنیئر نے واضح کیا کہ یہ بنیادی مسئلے کا حل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’چاہے سبسکرپشن ادا شدہ ہو یا مفت، ہم ایسی تصاویر نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ پلیٹ فارمز اپنے سسٹمز کو اس طرح ڈیزائن کریں کہ غیر مہذب مواد کی تخلیق ممکن ہی نہ ہو۔‘ یورپی کمیشن نے اس تنازع کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ہدایت دی ہے کہ وہ گروک سے متعلق تمام اندرونی دستاویزات اور ڈیٹا کو 2026ء کے اختتام تک محفوظ رکھے۔ ایلون مسک نے گزشتہ ہفتے ایکس پر لکھا تھا کہ گروک کے ذریعے غیر قانونی مواد بنانے والے افراد کو وہی نتائج بھگتنا ہوں گے جو غیر قانونی مواد اپ لوڈ کرنے پر ہوتے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments