International

خلا بازوں کے دماغوں میں چونکا دینے والی تبدیلیوں سے متعلق خوفناک سائنسی انکشاف

خلا بازوں کے دماغوں میں چونکا دینے والی تبدیلیوں سے متعلق خوفناک سائنسی انکشاف

وزن کے احساس سے خالی ماحول یعنی ’’ مائیکرو گریویٹی ‘‘ میں وقت گزارنا انسانی جسم پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے لیکن سائنسدانوں نے حال ہی میں ایک نیا اثر دریافت کیا ہے جو شاید اس بات کی وضاحت کر سکے کہ کچھ خلا باز زمین پر واپسی کے بعد خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں کیوں مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ ویب سائٹ "سائنس الرٹ" نے اس حوالے سے رپورٹ پیش کی ہے۔ خلا میں چند ہفتوں کا مختصر وقت گزارنے کے بعد ہی خلا بازوں کے دماغ کی ساخت میں نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں طویل فضائی سفر کی صورت میں یہ ممکن ہے کہ یہ تبدیلیاں کم از کم چھ ماہ تک برقرار رہیں۔ یہ تبدیلیاں بہت معمولی ہوتی ہیں - زیادہ سے زیادہ چند ملی میٹر - لیکن یہ دماغ کے ان حصوں میں زیادہ واضح ہوتی ہیں جو توازن، کیفیت کے احساس اور حسی و حرکی کنٹرول کے ذمہ دار ہیں، یہی وجہ ہے کہ کچھ خلا بازوں کو زمین کی کششِ ثقل میں اپنا توازن بحال کرنے کے لیے طویل جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ فلوریڈا یونیورسٹی کی ماہرِ فعلیات راشیل سیڈلر کی سربراہی میں محققین کی ایک ٹیم نے لکھا ہے کہ خلا کے سفر اور اس جیسے ماحول کے بعد کھوپڑی کے اندر دماغ کی جگہ میں ہمہ گیر تبدیلیاں دریافت ہوئی ہیں۔ اس مطالعے کے نتائج انسانی دماغ اور اس کے برتاؤ پر خلائی سفر کے اثرات کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ جب خلا باز خلا میں وقت گزارتے ہیں تو ان کے ٹشوزمیں نمایاں تبدیلی کا رجحان پایا جاتا ہے۔ کششِ ثقل کے اثرات کے بغیر جسمانی رطوبتیں خود کو زیادہ مساوی طریقے سے تقسیم کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اگرچہ جسمانی رطوبتوں کی یہ دوبارہ تقسیم کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں لگتی لیکن یہ تقسیم کھوپڑی کے اندر دماغ کی جگہ بدل دیتی ہے۔ سابقہ تحقیقات نے ظاہر کیا ہے کہ خلائی سفر کے بعد خلا بازوں کے دماغ کے وزن کا مرکز کھوپڑی کے اندر اوپر کی طرف اٹھ جاتا ہے۔ اگر اس کا موازنہ سفر سے پہلے کی پیمائشوں سے کیا جائے تو یہ تبدیلی واضح ہوتی ہے۔ اس بات کے مزید شواہد موجود ہیں کہ دماغ کے اندر معاملات کچھ عجیب رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ 2015 میں ایک تحقیق ان لوگوں پر کی گئی تھی جنہیں سر نیچے کی طرف جھکی ہوئی حالت میں بستر سے باندھ کر رکھا گیا تھا - یہ زمین پر کششِ ثقل کے بغیر رطوبتوں کی تقسیم کے اثرات کو پرکھنے کی ایک تکنیک ہے - اس میں مرکزِ ثقل اور دماغ کے مخصوص حصوں کے حجم میں تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ سیڈلر اور ان کی ٹیم کی جانب سے کی گئی باریک بینی سے پیمائشوں نے انکشاف کیا کہ خلائی سفر کے دوران دماغ کھوپڑی کے اندر اوپر اور پیچھے کی طرف حرکت کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ ایک معمولی دائروی حرکت میں تھوڑا پیچھے کی طرف جھک جاتا ہے۔ یہ نتائج پچھلے مطالعے کے نتائج سے مطابقت رکھتے ہیں۔ دماغ میں دیگر تبدیلیاں بھی دیکھی گئیں جو پورے دماغ میں ایک جیسی نہیں تھیں۔ بلکہ مختلف حصوں میں مختلف سمتوں میں تھیں۔ ان تبدیلیوں کو محض پورے دماغ کی مجموعی حرکت سے منسوب نہیں کیا جا سکتا جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ خود دماغ کی شکل بدل رہی ہے۔ سب سے نمایاں تبدیلیاں ان خلا بازوں کے دماغ میں دیکھی گئیں جنہوں نے ایک سال خلا میں گزارا جہاں یہ تبدیلی 2 سے 3 ملی میٹر تک ہو سکتی ہے۔ ان نتائج کو بستر کے جھکاؤ والے مطالعے کے ڈیٹا سے بھی تقویت ملی جس نے یہ بھی دکھایا کہ دماغ کے بطون - جو دماغ میں رطوبتوں سے بھری ہوئی جھلیاں ہیں - کششِ ثقل نہ ہونے کی صورت میں اوپر کی طرف حرکت کرتے ہیں۔ یہ ڈیٹا حرکت ان تبدیلیوں میں رطوبتوں کی دوبارہ تقسیم کے کردار کی بھرپور نشاندہی کرتا ہے۔ ان میں سے کسی بھی تبدیلی کا تعلق شخصیت، ذہانت یا ادراک میں تبدیلی سے نہیں پایا گیا بلکہ ایسا لگتا ہے کہ سب سے بڑی تبدیلیاں دماغ کے ان حصوں پر اثر انداز ہوئیں جو جسم کی جگہ اور خلا میں اس کی حرکت پر نظر رکھنے کے ذمہ دار ہیں۔ سب سے بڑی تبدیلیاں دماغ کے پچھلے "انسولر لوب" میں ہوئیں جو توازن کے ذمہ دار دماغ کا حصہ ہے۔ محققین نے پایا کہ اس حصے میں ہونے والی شدید ترین تبدیلیاں زمین پر واپسی کے بعد توازن کے بگڑنے سے جڑی ہوئی ہیں۔ خلا باز عام طور پر لینڈنگ کے بعد کئی دنوں یا ہفتوں تک غیر مستحکم رہنے کی شکایت کرتے ہیں۔ حسی و حرکی بحالی کا بتدریج عمل کئی مہینوں تک جاری رہتا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments