افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان فورسز نے گذشتہ اتوار کو نوریہ نامی ایک نوجوان لڑکی کو مردانہ لباس میں کام کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں نوریہ نے بتایا کہ اپنے والد کے انتقال کے بعد وہ اپنے خاندان کی واحد کفیل بن چکی تھی اور انتہائی غربت اور آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ گذشتہ تین سال سے "نور احمد" کے فرضی نام سے ایک کیفے میں مردانہ لباس پہن کر کام کر رہی تھی۔ نوریہ کا کہنا تھا کہ یہ کام اس کے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا واحد راستہ تھا اور اس نے اپنی اصل شناخت چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن آخر کار اس کا راز فاش ہو گیا اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر ردعمل پیدا کیا ہے اور خواتین کے کام کرنے کے حق سے متعلق افغان خواتین کو درپیش کٹھن حالات کو دوبارہ سب کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب طالبان کی دوبارہ اقتدار میں آمد کے بعد سے خواتین پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ زیادہ تر سرکاری اداروں اور بہت سے نجی شعبوں میں خواتین کے کام کرنے پر پابندی ہے جبکہ ان پابندیوں میں غیر سرکاری تنظیمیں، میڈیا اور بعض سروس سیکٹرز بھی شامل ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ہزاروں خواتین اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں اور بہت سے خاندان آمدنی کے اہم ذریعے سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ پابندیاں صرف کام تک محدود نہیں بلکہ لڑکیوں کو سیکنڈری سکول اور یونیورسٹی کی سطح پر تعلیم سے بھی روک دیا گیا ہے جبکہ خواتین کی نقل و حرکت اور عوامی مقامات پر ان کی موجودگی پر بھی سخت قدغنیں عائد ہیں۔ ان پالیسیوں نے بہت سی خواتین بالخصوص اپنے خاندانوں کی کفالت کرنے والی عورتوں کو انتہائی مشکل انتخاب کے سامنے کھڑا کر دیا ہے جہاں انہیں شدید غربت یا چھپ کر کام کرنے کے خطرات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ نوریہ کا معاملہ ان پالیسیوں کے انسانی اور سماجی اثرات کی ایک واضح مثال ہے جو نہ صرف خواتین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرتی ہیں بلکہ انہیں گرفتاری، سزا اور عوامی زندگی سے مکمل طور پر بے دخل کیے جانے کے خطرات سے بھی دوچار کرتی ہیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ